Posted by: Bushra Tasneem | ستمبر 13, 2017

تربیت کا پہلا نکتہ – 24

"تربیت کا پہلا نکتہ”
الله رب العلمین نے مرد اور عورت کی تخلیق اس کی ذمہ داریوں اور مقصد حیات کے پیش نظر کی ہے. زہنی، جسمانی جزباتی اور نفسیاتی فرق اور حقوق و فرائض میں تقسیم بهی اسی نکتے کے تحت ہے.. جس طرح آنکھ دیکھنے اور کان سننے کے لئے ہے مگر دونوں عضو ایک ہی معاملے کا فہم بیک وقت دیتے ہیں.اسی طرح مرد کا دائرہ عمل الگ ہے اور عورت کی ذمہ داریاں کچھ اور ہیں. دونوں کا الگ الگ دائرہ عمل میں رہ کر اپنا کام سر انجام دینا در اصل ایک ہی مشترکہ مقصد کی تکمیل ہے..
پہلی بات جو کامیاب ازدواجی زندگی میں بنیاد ہے وہ دونوں فریق کو مع خاندان کے اپنے اپنے دائرہ عمل اور اس کے اندر رہتے ہوئے اپنے مقام اور مرتبے کی پہچان کا علم ہونا چاہئے. علم کا کوئی فائدہ نہیں جب تک اس پہ عمل نہ ہو. اور عمل کے لئے دوسروں کے تجربات سےمثبت فائدہ اٹھانا عقل مند ہونے کا ثبوت ہے..
والدین اپنی بیٹی کی تربیت میں پہلا قدم تنگئ نفس سے بچنے کی ترغیب سے اٹھائیں اور خود اس کا نمونہ بهی بنیں زبانی نصیحت کرنا پانی پہ تحریر ہے اور خود عملی نمونہ بن کے دکھانا پتھر پہ لکیر ہوتی ہے. خاندان میں قابل تقلید جوڑوں کی خوشگوار زندگی کے حسن عمل کو اجاگر کریں اور ناخوشگوار زندگی گزارنے والے جوڑوں کو سامنے رکھ کر کیس سٹڈی کروائیں.نو جوان بچوں سے مسائل کی گهمبیر خرابی کی وجوہات اور ان کا حل دریافت کریں.ان کی رائے لیں اور مثبت انداز فکر کی طرف راہنمائی کریں. عموماً یہی بات سامنے آتی ہے کہ تنگئ نفس کے مضمرات ہی فریقین کے درمیان معاملہ درست نہیں ہونے دیتے..
کسی لڑکی کے نفس کی تنگی نئے رشتوں کو قبول نہیں کرنے دیتی تو نبها کیسے سکتی ہے؟ اور سارے اخلاقی عیب کی جڑ تنگئ نفس ہے. جو اس سے بچ جاتا ہے وہی کامیاب ہےٌ ۚ وَمَنْ يُوقَ شُحَّ نَفْسِهِ فَأُولَٰئِكَ هُمُ الْمُفْلِحُونَ)(سورہ الحشر آیت 9)
اور زندگی کے ہر رشتے اور مرحلے میں کامیاب ہونے کا ربانی فارمولہ یہی ہے.
اگر ہم معاشرے میں باہمی تنازعات پہ غور کریں تو یہی نتیجہ نکلتا ہے کہ نفس کی تنگی ہر بگاڑ کا سبب ہے. ہر نئے جوڑے کو نیا رشتہ استوار کرنے سے پہلے اپنے نفس کی تربیت کرنی چاہئے.
سسرال بهیجنے سے پہلے والدین کو خصوصاً ماں کو چاہئے کہ بیٹی کے مزاج سے تنگ دلی کا عنصر ختم کرے. توجہ ،محبت ہو یا مال اسباب جس قدر میسر ہو جائے اس کو کهلے دل سے قبول کرنے،اور شئر کرنے کی عملی مشق کروائ جائے. والدین بیٹی کو چھوٹی عمر سے ہی یہ تو باور کراتے ہیں کہ تمہارا اصلی اور اپنا گهر شوہر کا گهر ہے. اس جملے کو اٹھتے بیٹھتے سن کر لا محالہ لڑکی اس انتظار میں رہتی ہے کہ وہ گهر جو اس کا ہوگا وہ کب ملے گا. جب ملتا ہے تو وہ شوہر سمیت ملکیت کا جزبہ جنون بن جاتا ہے.لڑکی کو شادی کے بعد مالک ہونے کا إحساس دلانے کی بجائے حصہ دار ہونے کی یقین دہانی کرائ جائے. نئ جگہ پہ جا کر اپنا مقام بنانا اور اجنبی لوگوں کو اپنی زندگی میں شامل کرنے کی بہترین مثال انصار و مہاجرین کے درمیان مواخات ہے.. شہر کے باشندوں نے کهلے دل سے اپنے مال ومنال بلکہ اہل و عیال تک میں اجنبیوں کو حصہ دار بنایا.تو آنے والوں نے بهی ملکیت کے دعوے نہ کئے..اپنا مقام خودداری اور محنت کے ساتھ بنایا.. مؤمن معاشرے کی خوبی یہ ہے کہ اس میں ہرفرد” دینے والا” مزاج رکھتا ہے” لینے والا” نہیں.. یہ عطا کرنا اخلاق ہو یا مادی دنیا کی کوئی چیز ہمیشہ دینے والا ہاتھ ہی باوقار ہوتا ہے..عزت، وقار، مقام اور مرتبہ حاصل کرنے کی تمنا کا پورا ہونا دل کی تنگی کے ساتھ ممکن نہیں.
نبی کریم ص نے فرمایا الغنی غنی النفس. .یعنی امیری و تونگری تو نفس کی تونگری ہوتی ہے..یعنی نفس میں وسعت ہو دل کهلا ہو تو کم مال و دولت میں بهی انسان امیروں کی طرح خوشحال رہ سکتا ہے. دل کی وسعت دراصل دل کا سکون ہوتی ہے. دوسروں کے مال کو اپنا سمجھنا اور اپنے مال پہ سانپ بن کر بیٹھ جانا انسانی وصف کے خلاف ہے.جب دینے کا جزبہ پنپتا ہے ،دوسروں کو حق دینے کی کوشش کی جاتی ہے اور اپنے حق کو الله کی رضا کے لیے عطا کا چسکہ پڑ جاتا ہے تو الله اپنی عطا کے دروازے کهول دیتا ہے.. یہ عطا کرنے کا جزبہ، ایثار کی تڑپ مل جانا ایمان کا سب سے اعلیٰ درجہ درجہ ہے..
(لَنْ تَنَالُوا الْبِرَّ حَتَّىٰ تُنْفِقُوا مِمَّا تُحِبُّونَ ۚ وَمَا تُنْفِقُوا مِنْ شَيْءٍ فَإِنَّ اللَّهَ بِهِ عَلِيمٌ)

لڑکی کی شادی ہو چکی ہے یا نہیں ہوئی. .زیادہ عرصہ گزرا ہے یا کم. شادی رشتہ داروں میں ہوئ ہے یا غیروں میں..سسرال والے دین دار ہیں یا دنیا دار
بہترین زندگی گزارنے اور عزت کا مقام پانے کے لئے یہ پہلا نکتہ زہن نشین کر لیں اور اس پہ عمل کرنے کی کوشش اور مستقل مزاجی سے اس پہ استقامت کا اپنے آپ سے وعدہ کریں کہ دل کی تنگی سے اپنے آپ کو بچانا ہے..

@
مٹا دے اپنی ہستی کو گر کچھ مرتبہ چاہے
کہ دانہ خاک میں مل کر گل و گلزار ہوتا ہے

Advertisements
Posted by: Bushra Tasneem | ستمبر 13, 2017

بیٹی کے لیے رشتے کی تلاش – 23

بیٹی کے لیے رشتے کی تلاش

دنیا کی پہلی عورت جب وجود میں لائ گئ تو اس کا سرپرست اس کا شوہر موجود تها. روز ازل سے عورت کسی ایک لمحے کے لئے بهی بے یارو مددگار ، تنہا یا لاوارث نہیں رکھی گئ. پہلی عورت کے لئے اس کا شوہر اس کا سر پرست اعلیٰ موجود تها. آدم سے حوا اور پهر اس جوڑے سے بے شمار مرد اور
عورتیں پیدا ہوئے اور رشتے اور تعلق کے سلسلے شروع ہوئے جو مسلسل خاندان برادری قبیلے قوموں کی شکل میں بڑهتے جارہے ہیں .یہ بهی الله کی خاص نشانیوں میں سے ایک ہے..
اب تک ہم ابن آدم کی بحیثیت شوہر ذمہ داریوں کی بات کرتے آئے ہیں بنت حوا کی بحیثیت بیوی کے جو ذمہ داریاں ہیں ان کا تزکرہ بهی ناگزیر ہے اس لئے کہ الله رب العزت نے حقوق و فرائض کو توازن کے ساتھ رکھا ہے..معاشرے کی پہلی اکائ گهر اور گهر کی پہل جس رشتے سے ہوتی ہے ان میں حقوق و فرائض کا توازن ہی وہ بنیاد ہے جس کے بر قرار رہنے سے دنیا فساد فی الارض سے بچ سکتی ہے.
آج کے دور کا بنیادی مسئلہ اچھے رشتوں کا دستیاب نہ ہونا ہے. اور اچھے رشتے کی تعریف ہر کوئی اپنے نفس سے پوچھتا ہے. حالانکہ رشتے کی تلاش میں وہی معیار مطلوب ہونا چاہئے جو الله اور اس کے رسول نے قائم کر دیا ہے. .اور اس کی ترتیب بهی واضح ہے..
تقویٰ. مال..حسب نسب.. شکل و صورت
رشتوں کی تلاش میں فی زمانہ مسنون ترتیب کو الٹ پلٹ کر دیا جاتا ہے یا من مانی تاویلیں پیش کی جاتی ہیں..تو نتیجتاً انجام بهی الٹ جاتا ہے. .
” کفو ” کا خیال رکھنا بهی عقل و دانش کا امتحان ہوتا ہے..اس "کفو "کی ترتیب بهی تقویٰ، مال حسب نسب اور شکل و صورت میں قائم رہے گی. اور تقویٰ کا معیار ترجیح ہوگا. اپنی بیٹی کی پسند کا خیال رکھنا والدین کی ذمہ داری ہے مگر بیٹی کی پسند کو مسنون معیار پہ رکھنے کے لئے اس کی تربیت کرنا اس سے زیادہ ضروری ہے.بیٹی کو معلوم ہونا چاہئے کہ وہ سرپرست کی رضامندی کے بغیر اپنی آئندہ زندگی کا فیصلہ نہیں کر سکتی. .اور سرپرست کو بهی اس بات کا پابند کیا گیا ہے کہ وہ بیٹی یا بہن کی رضامندی کے بغیر اس کی آئندہ زندگی کا فیصلہ نہیں کر سکتا باہم افہام و تفہیم سے فریقین ایک دوسرے ہہ اپنا نقطہ نظر واضح کر سکتے ہیں..ضد، انا، ہٹ دهرمی مومن کا شیوہ نہیں..الله اور اس کے رسول کی تعلیمات کے مطابق معاملات کو سلجھانے میں برکت بهی ہوتی ہے اور امن و سکون بهی. ..
کسی عالم سے پوچھا گیا کہ میں اپنی بیٹی کے لیے کیسا شوہر منتخب کروں تو انہوں نے جواب دیا
۔”جو خوف خدا رکھتا ہو،اگر بیوی پسند آگئی تو قدر کرے گا اگر اس کے دل کو نہ بهائ تو اللہ کے خوف کی وجہ سے ظلم نہیں کرے گا”۔
بیٹی کے والدین خصوصاً ماں کو یہ خیال رکھنا چاہئے کہ بیٹی کا جہیز وہ نہیں جو وہ اس کی پیدائش کے وقت سے جمع کر رہی ہے بلکہ اصل جہیز وہ تربیت ہے جو اس کے زندگی بهر کام آئے گی دنیاوی ساز و سامان آخر کب تک چلے گا؟ نیک تربیت نسل در نسل چلے گی اور والدین کے لئے صدقہ جاریہ ہوگی..بیٹی کی تربیت کو جز وقتی کورس نہیں سمجھنا چاہئے. موقع و محل کے لحاظ سے بدلتے ماں کے تیور اور معاشرتی معاملات میں طور اطوار، لب و لہجہ، غیبت، حسد، تنگئ نفس یا پهر اٹھتے بیٹھتے، چلتے پهرتے معاملاتِ زندگی کو مسنون طریقے پہ طے کرتے رہنا وہ جہیز ہوتا ہے جو
بیٹی کے قلب و زہن میں قطرہ قطرہ کرکے جزب ہوتا رہتا ہے.
بیٹی کو وسیع القلبی، حلم ،تحمل اور برداشت،ایثار
کی صرف زبان سے نصیحت کرنا کوئی معنیٰ نہیں رکھتا اگر اس نے ان سب صفات کا عملی مظاہرہ اپنے والدین خصوصاً ماں میں نہ دیکھا ہو.اور یہ بهی یاد رکھنا ضروری ہے کہ اخلاصِ نیت کے بغیر کی گئ کوئی بهی نیکی صدقہ جاریہ نہیں بن سکتی کیونکہ اس کے اثرات اولاد تک نہیں پہنچ پاتے..

Posted by: Bushra Tasneem | ستمبر 12, 2017

مثالی مومن گھرانا – 22

مثالی مومن گھرانا

سیدنا آدم علیہ السلام دنیا کے پہلے انسان ،پہلے شوہر، پہلےباپ، اور رعیت کے بڑهنے کے ساتھ ساتھ وہ پہلے حکمران اور پہلے نبی تهے. ابن آدم کو بهی اسی ترتیب سے اپنی زندگی کے ادوار سے واسطہ پڑتا ہے . بے شک اب ہر ابن آدم اپنے چاروں طرف رشتوں کی دیواریں دیکھتا ہے مگر بنیادی طور پر اس کی ذمہ داری اسی ترتیب سے جڑی ہوئ ہے .
ایک گهر کی رعیت ہو یا ایک پوری ریاست کی رعیت, اس کو امن و سکون سے چلانے کے لئے یکساں اصول و قواعد مالک کائنات نے وضع کر دئے ہیں .
گهر کے افراد کم ہوں یا زیادہ، قابلیت و صلاحیت میں کمتر ہوں یا برتر مزکر ہوں یا مونث عمر میں چھوٹے ہوں یا بڑے سربراہ سب کو ساتھ لے کر چلتا ہے ،سب کی خوبیوں کو سب کے لئے باعث فخر بناتا ہے اور بشری انسانی کمزوریوں اور خطاؤں کے برے اثرات سے سب کو بچاتا ہے .
اس مستحسن کام کے لئے گهر کے سربراہ کے لئے پہلے خود کو تقوی کے معیار پہ قائم رکهنا ضروری ہے.اور تقویٰ کا معیارصرف دنیا کی تعلیم سے برقرار نہیں رہ سکتا اس کے لئے قرآن پاک کی تعلیم اور سنت رسول کی پیروی بهی لازمی ہے .
ایک مثالی مومن گهرانے کا نقشہ سورہ الشوری آیاتٰ 36 سے 42 میں ملتا ہے. اس کی ایک ایک شق ایک گهر کی رعیت ہو یا پوری ریاست کی، دنیا اور آخرت کے لئے یکساں فلاح کی ضامن ہے اور سربراہ یا راعی کی ذمہ داری ہے کہ اس کے مطابق اپنی رعیت کے ساتھ معاملہ کرے..
(فَمَا أُوتِيتُمْ مِنْ شَيْءٍ فَمَتَاعُ الْحَيَاةِ الدُّنْيَا ۖ وَمَا عِنْدَ اللَّهِ خَيْرٌ وَأَبْقَىٰ لِلَّذِينَ آمَنُوا وَعَلَىٰ رَبِّهِمْ يَتَوَكَّلُونَ)
(وَالَّذِينَ يَجْتَنِبُونَ كَبَائِرَ الْإِثْمِ وَالْفَوَاحِشَ وَإِذَا مَا غَضِبُوا هُمْ يَغْفِرُونَ)
(وَالَّذِينَ اسْتَجَابُوا لِرَبِّهِمْ وَأَقَامُوا الصَّلَاةَ وَأَمْرُهُمْ شُورَىٰ بَيْنَهُمْ وَمِمَّا رَزَقْنَاهُمْ يُنْفِقُونَ)
(وَالَّذِينَ اسْتَجَابُوا لِرَبِّهِمْ وَأَقَامُوا الصَّلَاةَ وَأَمْرُهُمْ شُورَىٰ بَيْنَهُمْ وَمِمَّا رَزَقْنَاهُمْ يُنْفِقُونَ)
(وَالَّذِينَ إِذَا أَصَابَهُمُ الْبَغْيُ هُمْ يَنْتَصِرُونَ)
(وَجَزَاءُ سَيِّئَةٍ سَيِّئَةٌ مِثْلُهَا ۖ فَمَنْ عَفَا وَأَصْلَحَ فَأَجْرُهُ عَلَى اللَّهِ ۚ إِنَّهُ لَا يُحِبُّ الظَّالِمِينَ
(وَلَمَنِ انْتَصَرَ بَعْدَ ظُلْمِهِ فَأُولَٰئِكَ مَا عَلَيْهِمْ مِنْ سَبِيلٍ)
(إِنَّمَا السَّبِيلُ عَلَى الَّذِينَ يَظْلِمُونَ النَّاسَ وَيَبْغُونَ فِي الْأَرْضِ بِغَيْرِ الْحَقِّ ۚ أُولَٰئِكَ لَهُمْ عَذَابٌ أَلِيمٌ)
(وَلَمَنْ صَبَرَ وَغَفَرَ إِنَّ ذَٰلِكَ لَمِنْ عَزْمِ الْأُمُورِ)
ان نکات پر مختلف تفاسیر سے اپنے علم میں اضافہ کیا جائے اور ان پہ غوروفکر کے ساتھ اپنے معاملات کو چلایا جائے. مزید وہ چودہ نکاتی ایجنڈا جو سورہ بنی اسرائیل میں مستقل بنیادوں پہ مومنین کی رعیت، اور اسلامی ریاست کے قیام کے لیے موجود ہے اس کو زندگی کا دستور بنایا جائے یہ ایجنڈا آیت نمبر 23 سےآیت نمبر39 تک ہے.
(وَقَضَىٰ رَبُّكَ أَلَّا تَعْبُدُوا إِلَّا إِيَّاهُ وَبِالْوَالِدَيْنِ إِحْسَانًا ۚ إِمَّا يَبْلُغَنَّ عِنْدَكَ الْكِبَرَ أَحَدُهُمَا أَوْ كِلَاهُمَا فَلَا تَقُلْ لَهُمَا أُفٍّ وَلَا تَنْهَرْهُمَا وَقُلْ لَهُمَا قَوْلًا كَرِيمًا)
[Surat Al-Isra’ 23]
سے شروع ہوکر
(ذَٰلِكَ مِمَّا أَوْحَىٰ إِلَيْكَ رَبُّكَ مِنَ الْحِكْمَةِ ۗ وَلَا تَجْعَلْ مَعَ اللَّهِ إِلَٰهًا آخَرَ فَتُلْقَىٰ فِي جَهَنَّمَ مَلُومًا مَدْحُورًا)
[Surat Al-Isra’ 39]
تک ہے. .
یہ سب آیات ایک مومن معاشرے کی تشکیل کے لئے لازم وملزوم ہیں اور یہ آیات مدینہ منورہ کی اسلامی ریاست کا دستور تها جو ہجرت سے پہلے طے کر دیا گیا تها.
سورہ الفرقان کی آخری آیات میں عباد الرحمن کی شخصیت کا ایسا کمال نقشہ بیان کیا گیا ہے کہ تربیت کا کوئی پہلو نہیں چھوڑا گیا. سماجی معاشی، انفرادی، اجتماعی معاملات میں أحسن عمل کی ترغیب و ترہیب موجود ہے. خود راعی بهی اس کے مطابق اپنی شخصیت کی تعمیر کرے اور اپنی رعیت کے لئے نمونہ بنے.
گهر کے سربراہ کو،تعلیمی اداروں کے نصاب کو مرتب کرنے والوں کو، ہر سرکاری و غیر سرکاری اداروں کے ذمہ داران کا فریضہ ہے کہ وہ اپنے ماتحتوں کے لئے ان احکامات کی روشنی میں مثالی کردار بنا کر پیش کریں اور اپنی رعیت کی نگرانی و تربیت بهی انہی خطوط پہ کریں اگر ہر محاذ پہ یہی کردار موجود ہوں گے تو سارا معاشرہ یکساں قرآنی سوچ اور خطوط پہ گامزن ہوگا.
مومن شوہر اپنی بیوی کو مومنہ بننے میں تعاون کرے گا دونوں مل کر اپنی اولاد کو متقین کا امام بنائیں گے.جس کے نتیجے میں لازماً ملک و قوم کی باگ ڈور صالحین و متقین کے ہاتھ میں آجائے گی.
"پیوستہ رہ شجر سے امید بہار رکه ”
ربنا هب لنا من ازواجنا و ذریتنا قره اعین وجعلنا للمتقین إماما

Posted by: Bushra Tasneem | ستمبر 12, 2017

مثالی شخصیت کی آبیاری – 21

مثالی شخصیت کی آبیاری
الله رب العالمين نے سورہ النساء کے آغاز میں فرمایا
"لوگو؛ اپنے رب سے ڈرو،جس نے تمہیں ایک جان سے پیدا کیا اور اسی جان سے اس کا جوڑا بنایا. اور ان دونوں سے بہت سے مرد اور عورتیں دنیا میں پهیلا دئے..”
اسلام میں نکاح کا مطلب دو افراد کی جزباتی جسمانی وابستگی کسی وقتی ہیجان کی تسکین کا ذریعہ  نہیں بلکہ انتہائ اعلیٰ مقاصد کے حصول کا  ذریعہ ہے..اور ہر دو صنف میں طبعی میلان اور کشش اس مقصد کے حصول میں کامیاب ہونے کے لئے آسانی کی صورت ہے..اور  اس طبعی کشش کو حلال کرنے کی صورت باہم نکاح کرنا ہے..اور اسی رشتے کے نتیجے میں  وہ امن سکوں، تحفظ،  ایثار، ضبط و تحمل کا سازگار ماحول ملتا ہے جس میں آنے والی نسل کی پیدائش،پرورش تعلیم و تربیت رب کی رضا کے مطابق کرنا آسان ہو جاتی ہے اور  یہی وہ مقصد وحید ہے جس کے لئے مرد و عورت کا جوڑا بنایا..
سیدنا آدم علیہ السلام کا  شوہر کے مرتبہ کے بعد  باپ کے مرتبہ پہ فائز ہوئے…الله تعالى نے شوہر کے لئے بیوی کو کهیتی سے تشبیہ دی ہے..کهیت میں بیج بونے سے پہلے زمین فصل کے لیے تیار کی جاتی ہے..پهر اس کی ہر طرح سے حفاظت کی جاتی ہے.کسان کی تمام تر توجہ،اپنی کهیتی پہ مبذول رہتی ہے..نقصان دہ معاملات سے آگاہ رہتا ہے..جہاں رب الخالق نے میاں بیوی کو ایک دوسرے کا لباس قرار دے کر عظیم الشان تمثیل بیان کی ہے اسی طرح بیوی کو کهیتی کی مثال دینا بهی لاجواب ہے..گویا کہ نکاح کرنا کوئی دنیاوی لذت، یا کوئی وقتی تفریح کا پروگرام نہیں بلکہ انتہائ سنجیدہ معاملہ ہے..جسے الله کے سامنے جواب دہی کے خوف کے بغیر نبهانا ممکن نہیں ہے.اسی لئے خطبہ نکاح میں پڑهی جانے والی تین آیات میں چار مرتبہ "اتقوا الله” کی تاکید پائی جاتی ہے..
جسمانی ساخت،اور دیگر صلاحیتوں کے اعتبار سے مرد اور عورت الگ الگ مکمل احسن تقویم ہیں..مگر تولیدی صلاحیت کے اعتبار سے دونوں ایک دوسرے کے بغیر ادهورے ہیں اور ایک دوسرے کے محتاج ہیں..
دونوں ایک دوسرے کا نصف جزو ہیں..
مسند احمد میں نبی اکرم ص کا قول ہے کہ "انما النساء شقاق الرجال”یعنی عورتیں مردوں کا ہی حصہ ہیں.. دونوں اصناف ایک دوسرے کا تکملہ ہیں…اور  دونوں نے مل کر ایک نئے وجود کی تشکیل کا فریضہ انجام دینا ہے…اور نئے وجود کے دنیا میں لانے کے لئے شوہر اور بیوی کا وجود ناگزیر ہے تو  اس کی پرورش تعلیم و تربیت میں بهی دونوں کی زمہ داری اسی طرح بهرپور ہے..فصل یا باغ کے پهل سے کماحقہ فائدہ اٹهانے کے لئے جز وقتی نہیں ہمہ وقتی محنت کی ضرورت ہوتی ہے ..
اسلامی معاشرے میں نکاح دور رس نتائج کا حامل ہے. معاشرے کی تعمیر میں پہلی اینٹ ہے . اور معاشرے کی تشکیل میں بنیادی اکائ خاندان کی مضبوطی ہے .اور خاندانی نظام میں مرد کے لئے  شوہر  کے بعد باپ کا کردار اہمیت رکهتا ہے..
ایک باپ اپنی اولاد کو اپنا نام عزت و وقار ،دهن دولت ساری دنیا کی بهی جمع کر کے لا دے مگر اچھی تربیت اس سب پہ حاوی ہے.
مرد اپنی بیوی اور أولاد کا راعی ہے..اور اس سے اس رعیت کے بارے میں باز پرس ہوگی. گهر والوں کی .جسمانی، زہنی،روحانی صحت، تعلیم و تربیت کا حسبِ توفیق واستطاعت  اہتمام کرنا  مرد کی ذمہ داری ہے. بیوی کو اچھی ماں بننے میں مدد کرنا، اس کو گائڈ کرنا، اور نگرانی رکهنا،کہ متعین اسلامی و اخلاقی اقدار سے ہٹنے تو نہیں لگی، پیار و محبت، خلوص سے مشورہ دینا،  شوہر کا قوام ہونے کی وجہ سے فرض بنتا ہے. . گهر کے ماحول میں سکینت اسی طرح آتی ہے جب سربراہ سب کے حقوق کا تحفظ کرے حتی الامکان اپنے فرائض بحسن وخوبی انجام دے. اور نتیجتاً سرداروں والا مقام خودبخود حاصل کر لے ..
باپ کی طرف سے اولاد کی تربیت ہی وہ ثمر ہے جس کا فیض ڈھلتی عمر میں ملنے کی امید بندھی ہوتی ہے..باپ نے صرف اچھی اولاد نہیں پرورش کرنی ہوتی بلکہ اپنا جانشین ایک اچهے باپ،بهائ بیٹے، کی شکل میں چھوڑنا ہوتا ہے..معاشرے کے لئے کار آمد کردار، قوم و ملت کے لئے مثالی شخصیت کی آبیاری کرنا ہوتی ہے..صرف کامیاب روزگار کا مالک بنا دینا ایک مسلمان باپ کی ذمہ داری نہیں ،دنیا کے آرام  و آسائش کو مہیا کر دینے میں اپنی جوانی،وقت صلاحیتیں کهپا دینا اچهے باپ بن جانے کی نشانی نہیں ہے. .آج جو دولت خرچ کرے گا تو ممکن ہے اولاد بهی آپ کے آرام و آسائش کے لئے دولت خرچ کر دے. اگر آپ نے اس کو وقت نہیں دیا تو اس کے پاس بهی وقت نہیں ہوگا اس لئے کہ آپ نے اس پہ وقت اور توجہ کی دولت انوسٹ نہیں کی..روحانی خوشی مہیا کی ہوگی تو وہی واپس لوٹ کے آئے گی..آپ نے حقیقی معنوں میں مسلمان باپ بن کر اپنے آپ کو پیش نہیں کیا تو وہ بهی حقیقی مسلمان اولاد بن کر نہیں دکھائے گی. .
کهیت اور فصل کے جس رخ پہ جس حصے پہ، جس دور میں لاپرواہی،عدم توجہی ہوگی اسی قدر نقصان سامنے آکر رہے گا .
Posted by: Bushra Tasneem | ستمبر 11, 2017

قیمتی نصیحتیں – 20

قیمتی نصیحتیں

الله رب العزت نےسید الانبیاء محمد صل اللہ علیہ و سلم کو عرب میں مبعوث فرمایا  تو وہ مردوں کا معاشرہ تها ،مرد کی حاکمیت تهی،اولاد میں بیٹے ہی قابل فخر تهے. بیٹی اور عورت حقیر کمتر تهی. اسلام  ہمیشہ سے سلامتی کا پیغام لے کر آیا مظلوم طبقہ کے لئے..قرآن و سنت کی ساری تعلیمات مظلوم طبقہ کو  ظلم و بربریت سے نجات دلانے کے لیے ہیں.غلاموں اور عورتوں کے حقوق متعین کئے گئے ہیں اور ظالمانہ نظام کی نفی اور متکبر خود پسند لوگوں کو عزاب  سے ڈرایا گیا ہے.. نبی کریم صل اللہ علیہ و سلم کی آخری وصیت میں بهی ان دو مظلوم طبقہ کے حقوق کی پاسداری پہ  زور  دیا گیا ہے..
، تکبر و رعونت  خود پسندی میں مبتلا   لوگ نہ اپنی اصلاح کر سکتے ہیں اور نہ کسی سے محبت کر سکتے ہیں،نہ ہی اپنے متعلقین کے دلوں میں جگہ بنا سکتے ہیں…یہ ایک ایسا شیطانی عمل ہے جس کی  وجہ سے   نصیحت ،تنقید ،مشورہ ناقابلِ برداشت ہوجاتا ہے.. اپنا ہر فعل مکمل طور پر درست اور اپنی عقل سب سے بہتر لگتی ہے…اختیارات کے مالک اور عموماً شوہر  بیوی کو  یہ  حق ہر گز نہیں دیتے کہ وہ  ان کی کسی برائ کی اصلاح کرنے کی کوشش کرے. اس  کا مطلب یہ سمجھا جاتا ہے کہ بیوی شوہر کے ایک درجہ زیادہ فضیلت کا انکار کر رہی ہے اور اس کی قوامیت کو چیلنج کر رہی ہے.
حقوق و فرائض کے بارے میں افراط و تفریط  میں مبتلا   یہ معاشرہ بے یقینی کا شکار ہے.. مغربی  اور  ہندوانہ تہذیب کے اثرات کے ساتھ  اسلامی تعلیمات کے اثر و رسوخ نے ازدواجی زندگی کو  زہنی خلجان میں مبتلا  کر رکھا ہے. اور
روکے ہے مجهے ایماں تو  کھینچے ہے  مجهے کفر  کی کشاکش رہتی ہے..
پختہ ایمان مضبوط ارادے کی  تشکیل کرتا ہے. اور یہ ارادہ  کسی بھی قسم کے حالات و واقعات میں متزلزل نہیں ہوتا  "قل آمنت بالله ثم استقم "زندگی کے ہر چھوٹے بڑے معاملے میں  اپنا جلوہ دکھاتا ہے..کامیاب ازدواجی زندگی کی  ہر کڑی اسی قول سے  جڑی ہے.  معاملاتِ زندگی کو حکمت و تدبر، دانائی، نرمی ،محبت و شفقت اور باوقار رعب کے ساتھ  چلانا مردانہ شیوہ ہے. اورکمزور ،زیر دست کی  دلجوئی کرنا اس کے ساتھ  ربوبیت کا معاملہ کرنا  مردانگی کی شان ہے اور دلوں میں عقیدت، محبت اور شیفتگی اسی سے پیدا ہوتی ہے اور بارعب  وقار  حاصل ہوتا ہے ،کمزوروں کے لئے اور خصوصاً بیوی کے ساتھ   فرعونیت  کا رویہ رکهنا ان کے ساتھ  حاکمانہ طرز عمل پہ زندگی گزارنا جاہلوں کا شیوہ ہے. اور اس سے دلوں میں نفرت پیدا ہوتی ہے..
کچھ مردانہ زہن کا  یہ عالم بهی ہوتا ہے کہ وہ صنف مخالف کا مطلب یہ سمجھتے ہیں کہ عورت کی ہر بات قابلِ مخالفت ہوتی ہے.. عموماً میاں بیوی میں چپقلش اسی  بات پہ ہوتی ہے کہ بیوی کی بات درست بهی ہو تو ماننے کے قابل نہیں سمجھی جاتی .اپنی غلطی بیوی کے سامنے تو ہر گز تسلیم  نہیں کی جاتی . .یہ شوہر کی انا کا مسئلہ ہوجاتا ہے،مردانہ  غرور نفس  اس میں ہتک محسوس کرتا ہے،غرض وہی  ظالمانہ ایام جاہلیت والی  سوچ  اکثر مردوں میں پائ جاتی ہے کہ  بیوی کو دوسرے درجے کی مخلوق سمجھا جاتا ہے. باندی کنیز کا تصور نہیں جاتا..شوہر  بن جانا حکمت و تدبر کا متقاضی ہے کہ  نبی کریم نے اخلاق کا  سب سے اعلیٰ درجہ اسی مرد کو  ملنے کی خوشخبری سنائی ہے جو اپنی  بیوی کے ساتھ اعلیٰ اخلاق رکهتاہے.اور الله تعالیٰ نے اپنے رسول محمد صل اللہ علیہ و سلم کے  بارے میں فرمایا   —   انک لعلی خلقِ عظیم

اور خود نبی کریم نے  عملا بتایا کہ وہی اپنے گھر والوں کے لئے بہترین اخلاق والے ہیں. کریمانہ اخلاق کا اعلیٰ نمونہ ہر طرح سے موجود ہے،   گهر والوں کے لئے نہ خشونت نہ عقوبت نہ زبان کی تلخی نہ  بے جا پندار میں مبتلا بلکہ قابلیتوں کا اعتراف، درگزر کا مزاج  تحمل کا مظاہرہ، نرمی و محبت  کا ا یسا دریا جس کی روانی میں کمی نہ آئے.  صنف نازک کی طبعی کمزوریوں کا احساس کرتے ہوئے ان  سے مشفقانہ برتاؤ کرنا ہی ایک  مہذب شوہر کو زیب دیتا ہے.

امام احمد ابن حنبل رح نے اپنے صاحب زادے کو شادی کی رات ۱۰ نصیحتیں فرمائیں..

ہر مرد  شادی  کرنے سے پہلے  ان نصیحتوں کو غور سے پڑھے اور اپنی زندگی میں عملی طور پر اختیار کرے. جو شادی شدہ ہیں وہ بهی اپنے انداز  و اطوار کا جائزہ لیں.

*میرے بیٹے، تم گھر کا سکون حاصل نہیں کرسکتے جب تک کہ اپنی بیوی کے معاملے میں ان ۱۰ عادتوں کو نہ اپناؤ*
لہذا ان کو غور سے سنو اور عمل کا ارادہ کرو
*پہلی دو* تو یہ کہ عورتیں تمھاری توجہ چاہتی ہیں اور چاہتی ہیں کہ تم ان سے واضح الفاظ میں محبت کا اظہار کرتے رہو.
لہذا وقتاً فوقتاً اپنی بیوی کو اپنی محبت کا احساس دلاتے رہو اور واضح الفاظ میں اسکو بتاؤ کہ وہ تمہارے لئے کس قدر اہم اور محبوب ہے.. اور اس کا وفادار ہے ..
(اس گمان میں نہ رہو کہ وہ خود سمجھ جائے گی، رشتوں کو اظہار کی ضرورت ہمیشہ رہتی ہے)
یاد رکھو اگر تم نے اس اظہار میں کنجوسی سے کام لیا تو تم دونوں کے درمیان ایک تلخ دراڑ آجائے گی جو وقت کے ساتھ بڑھتی رہے گی اور محبت کو ختم کردے گی
۳- عورتوں کو سخت مزاج اور ضرورت سے زیادہ محتاط مردوں سے کوفت ہوتی ہے
لیکن وہ نرم مزاج مرد کی نرمی کا بےجا فائدہ اٹھانا بھی جانتی ہیں
لہذا ان دونوں صفات میں اعتدال سے کام لینا تاکہ گھر میں توازن قائم رہے اور تم دونوں کو ذہنی سکون حاصل ہو
۴- عورتیں اپنے شوہر سے وہی توقع رکھتی ہیں جو شوہر اپنی بیوی سے رکھتا ہے
یعنی عزت، محبت بھری باتیں، ظاہری جمال، صاف ستھرا لباس اور خوشبودار جسم
لہذا ہمیشہ اسکا خیال رکھنا  (ہمارے ہاں شوہروں  میں یہ حس بالکل نہیں پائ جاتی ،خوش لباسی خوش گفتاری، وغیرہ گهر میں آتے ہی عنقا ہو جاتی ہے)
۵- یاد رکھو گھر کی چار دیواری عورت کی سلطنت ہے، جب وہ وہاں ہوتی ہے تو گویا اپنی مملکت کے تخت پر بیٹھی ہوتی ہے
اسکی اس سلطنت میں بےجا مداخلت ہرگز نہ کرنا اور اسکا تخت چھیننے کی کوشش نہ کرنا
جس حد تک ممکن ہو گھر کے معاملات اسکے سپرد کرنا اور اس میں تصرف کی اسکو آزادی دینا
۵- ہر بیوی اپنے شوہر سے محبت کرنا چاہتی ہے لیکن یاد رکھو اسکے اپنے ماں باپ بہن بھائی اور دیگر گھر والے بھی ہیں جن سے وہ لاتعلق نہیں ہو سکتی اور نہ ہی اس سے ایسی توقع جائز ہے
لہذا کبھی بھی اپنے اور اسکے گھر والوں کے درمیان مقابلے کی صورت پیدا نہ ہونے دینا کیونکہ اگر اسنے مجبوراً تمہاری خاطر اپنے گھر والوں کو چھوڑ بھی دیا تب بھی وہ بےچین رہے گی اور یہ بےچینی بالآخر تم سے اسے دور کردے گی
۷- بلاشبہ عورت ٹیڑھی پسلی سے پیدا کی گئی ہے اور اسی میں اسکا حسن بھی ہے
یہ ہرگز کوئی نقص نہیں، وہ ایسے ہی اچھی لگتی ہے جس طرح بھنویں گولائی میں خوبصورت معلوم ہوتی ہیں
لہذا اسکے ٹیڑھپن سے فائدہ اٹھاؤ اور اسکے اس حسن سے لطف اندوز ہو

اگر کبھی اسکی کوئی بات ناگوار بھی لگے تو اسکے ساتھ سختی اور تلخی سے اسکو سیدھا کرنے کی کوشش نہ کرو ورنہ وہ ٹوٹ جائے گی، اور اسکا ٹوٹنا بالآخر طلاق تک نوبت لے جائے گا
مگر اسکے ساتھ ساتھ ایسا بھی نہ کرنا کہ اسکی ہر غلط اور بےجا بات مانتے ہی چلے جاؤ ورنہ وہ مغرور ہو جائے گی جو اسکے اپنے ہی لئے نقصان دہ ہے
لہذا معتدل مزاج رہنا اور حکمت سے معاملات کو چلانا
۸- شوہر کی ناقدری اور ناشکری اکثر عورتوں کی فطرت میں ہوتی ہے
اگر ساری عمر بھی اس پر نوازشیں کرتے رہو لیکن کبھی کوئی کمی رہ گئی تو وہ یہی کہے گی تم نے میری کونسی بات سنی ہے آج تک
لہذا اسکی اس فطرت سے زیادہ پریشان مت ہونا اور نہ ہی اسکی وجہ سے اس سے محبت میں کمی کرنا..
یہ ایک چھوٹا سا عیب ہے اس کے اندر
لیکن اسکے مقابلے میں اسکے اندر بے شمار خوبیاں بھی ہیں

بس تم ان پر نظر رکھنا اور اللہ کی بندی سمجھ کر اس سے محبت کرتے رہنا اور حقوق ادا کرتے رہنا
۹- ہر عورت پر جسمانی کمزوری کے کچھ ایام آتے ہیں۔ ان ایام میں اللہ تعالٰی نے بھی اسکو عبادات میں چھوٹ دی ہے، اسکی نمازیں معاف کردی ہیں اور اسکو روزوں میں اس وقت تک تاخیر کی اجازت دی ہے جب تک وہ دوبارہ صحتیاب نہ ہو جائے
بس ان ایام میں تم اسکے ساتھ ویسے ہی مہربان رہنا جیسے اللہ تعالٰی نے اس پر مہربانی کی ہے
جس طرح اللہ نے اس پر سے عبادات ہٹالیں ویسے ہی تم بھی ان ایام میں اسکی کمزوری کا لحاظ رکھتے ہوئے اسکی ذمہ داریوں میں کمی کردو، اسکے کام کاج میں مدد کرادو اور اس کے لئے سہولت پیدا کرو.
۱۰- آخر میں بس یہ یاد رکھو کہ تمہاری بیوی تمہارے پاس ایک قیدی ہے جسکے بارے میں اللہ تعالٰی تم سے سوال کرے گا۔ بس اسکے ساتھ انتہائی رحم و کرم کا معاملہ کرنا.اس کی گواہی سب سے پہلی اور معتبر گواہی  ہوگی..
ربنا هب لنا من ازواجنا و ذریتنا قره اعین وجعلنا للمتقين إماما.  آمین
—————-
تحریر؛ ڈاکٹر بشری تسنیم

حوالہ امام احمد بن حنبل : ویب سائٹ جمیعت العلماء ساؤتھ افریقہ

Posted by: Bushra Tasneem | ستمبر 11, 2017

غیرت – 19

غیرت

بحیثیت  مرد  کے معاشرے میں  اس کا   عورت کے ساتھ ظالمانہ سلوک  وہی ہے جس کا تعلق اس  نام نہاد احساس غیرت  سےہے  جس میں  انصاف اور ایمان کی دھجیاں اڑائی گئی ہوتی ہیں۔  قوام ہونے کی حیثیت سے اپنی کماحقہ ذمہ داری  نہ نبھانے کی سزا بھی عورت کو دیتا ہے اس خیال سے کہ اسے عورت پہ ایک درجہ فضیلت حاصل ہے۔

غیرت    دراصل وہ  احساس ہے جس  سے ہرکسی  انسان کاایمان ،عزت نفس ، اور  اعتماد و بھروسہ وابستہ ہوتا ہے۔ اس میں عورت کے حوالے سے عمو ما مردوں کی غیرت  بہت  حساس ہوتی ہے۔ حالانکہ یہ صرف مرد  کا جزبہ نہیں  غیرت  تو عورت اور بچے میں بھی ہوتی ہے۔ مرد اور عورت کے درمیاں   رشتوں میں ،غیرت کے حوالے سے  احساسات میں عدم توازن معاشرے میں ابتری  ، نفرت ، اور فساد  کا موجب ہوتا ہے ،  بعض قبیلوں یا علاقوں میں غیرت کے نام پہ خواتین کا قتل قانون سے ماورا ٗ   نہ صرف جائز بلکہ  مردانگی کی شان سمجھا جاتاہے، کیا وہ  مرد جس کی وجہ سے عورت  غیرت کے نام پہ موت کے گھاٹ اتاری جاتی ہے بے گناہ ہوتا ہے؟  یہ چلن سراسر ظلم اور زیادتی ہے۔اسی طرح پاکیزگئ کردار کے دو الگ معیار پائے جاتے ہیں  ،   اور یہ  دہرے معیار معاشرے کے ہر طبقہ میں اپنے حالات  و اختیارات کے مطا بق مل جاتے ہیں ، دین دار  لوگ   بھی اس دہرے معیار سے مستثنی نہیں ہیں۔

جب مرد  اپنے گھر کی خواتین  خصوصا بیوی کے چال چلن  میں جھول  پاتا ہے تو غیرت کھاتا ہے، اس پہ کوئی عیب کی نگا ہ  ڈالے  ،اس کو برداشت نہیں ہوتا،رشتے کے بھائی  اس سے بے تکلف ہوں تو اسے برا لگتا ہے ،غرض اس طرح کے سارے اعمال اس کی غیرت برداشت نہیں کرتی،مگر وہ خود اپنے لیے غیر عورتوں  غیر محرم رشتوں کے ساتھ ہنسنا بولنا پسند کرتا ہے ، بزنس ڈنر کے نام پہ  ہوٹلنگ کرتا ہے ، کاروباری مجبوری کے نام پہ ہاتھ ملاتا ہے ان سے  جس حد تک ممکن ہو بے تکلفی اپنا حق سمجھتا ہے۔  وہ عورتیں  جو ان سے خوش گپیاں کریں وہ خوش اخلاق ہیں  مگر اپنے گھر کی خواتین  سے کچھ  کوتاہی ہوجائے تو وہ بری ہیں   ،  غیر عورتوں سے حسن اخلاق   سے پیش آنا  اور گھر کی خواتین سے  بد اخلاقی کا مظاہرہ    کرنا   کس کی تعلیم ہے؟اور اگر بیوی اس ناروا طرز عمل پہ احتجاج کرے تو تنگ نظر اور شکی مزاج ہے، کیا گھر کی عورت وہ بہن ہو  ماں ہو بیٹی یا بیوی   اللہ کی  اس نافرمانی ،اپنی عزت نفس مجروح ہونے اور اعتماد ٹوٹنے  پہ غیرت نہیں کھا سکتی؟ کیا  گھر کے مرد اگر کسی اخلاقی گراوٹ کا شکار ہوں تو خواتین  کی غیرت  اور عزت نفس پہ کوئی آنچ نہیں آسکتی؟

شریف اور دیندار  مرد جب  کسی ایسی دعوت طعام میں جاتے ہیں جہاں مخلوط انتظام ہو تو اپنےگھر کی خواتین کو  پردے کے خیال سے ساتھ لے کر نہیں جاتے   یا ان کے لئے الگ جگہ کا انتظام کراتے ہیں ،  اور سمجھتے ہیں کہ قوام ہونے، ایک درجہ فضیلت ہونے اور عزت دار ہونے کا حق ادا ہوگیا،لیکن  خود اس مخلوط محفل میں پورئ دلجمعی سے شریک ہوتے ہیں ، یہ سوچ کر کہ  ؛خواتین خود سامنے آتی ہیں  ان  کا کیا قصور ہے؛  کیا  ان مردوں نے کبھی کسی ایسی محفل میں یہ کہہ کر جانے سے پہلو تہی کی ہے کہ  ہم  غیر محرم خواتین  کے ساتھ  محفل میں شریک نہیں ہوسکتے، یا یہ مطالبہ کیا ہو کہ  ہمارے لئے الگ انتظام کر دیا جائے، کیا مرد اور عورت کی عزت آبرو    میں کوئی فرق شریعت میں بتایا گیا ہے؟ بلکہ مرد کو احتیاطی تدابیر کا حکم پہلے ہے اور زیادہ ہے کہ عورت اس کے لئے فتنہ ہے   اور فتنے کے خطرات جتنے زیادہ ہوں اسی قدر  احتیاطی تدابیر لازم ہو جاتی ہیں۔۔ ،

پاکیزگئ کردار کے حوالے سے بھی    ہمارے معاشرے میں منافقت اور دہرا معیار پایا جاتا ہے جب تک اس کی اصلاح نہیں ہوتی گھروں میں سکون ناپید رہے گا،، جب رشتے کے لئے لڑکی تلاش کی جاتی ہے تو لڑکے کی سوچ یہ ہے  کہ مطلقہ یا بیوہ  ناقابل قبول ہے کہ   وہ سیکنڈ ہینڈ ہے  اور زہنی پستی کا یہ عالم ہے کہ اگر کسی لڑکی کی نسبت بھی ٹوٹ جائے تو ہزار سوال تنگ کرتے ہیں، اور  یہ بھی تنگ زہنی پائی جاتی ہے کہ  جہاں کہیں رشتے کی بات چیت چل رہی تھی اس فرد سے ناگواری  ہے اور مزید نام نہاد غیرت کا مظاہرہ بھی  ملتا ہے کہ  خود طلاق  دے دی مگر وہ  جس دوسرے مرد سے نکاح کرے  گی  تو سابقہ شوہر کی غیرت پہ تازیانہ ہے،اور اپنے گریبان میں جھانکنا گوارا نہیں ہوتا ،گھر کے بڑے بھی یہ کہہ کر کہ؛ مرد  کا کچھ نہیں بگڑتا   ؛اور یہ کہ ؛مرد ایسے کرتے ہی ہیں ؛  اس   ہر غیر شرعی طرز عمل کو معمول کی کارروائی سمجھ کر نظر انداز کرتے ہیں ۔۔غرض اس طرح کے مضحکہ خیز  خیالات کے نمونے کم  یا زیادہ شدت  کے ساتھ   شریعت کے ساتھ مذاق  کرتے پائے جاتے ہیں۔ اللہ رب العلمین نے فرمایا     سورہ البقرہ میں عورتوں کے لئے بھی معروف طریقے پہ ویسے ہی حقوق ہیں جیسے مردوں کے حقوق ان پہ ہیں ، اس  طرح بحیثت ایک  انسان کے دونوں برابر ہیں   مگر انتظامی  بدنظمی سے بچنے اور مال کمانے اور گھر والوں پہ خرچ کرنے کی اضافی ذمہ داری کے عوض   اسے ایک درجہ فضٰیلت  عطا  کرنے کا حکیمانہ فیصلہ اس الخالق کا ہے ، اور وہ ا لطیف  اور الخبیر ہے،

ایک درجہ فضیلت ذمہ داریوں  کی ادائیگی کے صلہ میں مل رہی ہے،  کوئی خاص قابلیت مردانہ صنف میں رکھ دی گئی ہے  اور اس قابلیت وصلاحیت کےعملی اظہار  کا تقاضا بھی  اس ٖفضیلت میں مضمر ہے۔ استاد کے لئے سب طالب علم  برابر ہیں لیکن قابلیت و صلاحیت دیکھ کر وہ ایک مانیٹر  اسی کلاس سے منتخب کر لیتا ہے  تو یقینا  استاد اس  سے  اس فضیلت  کے عملی مظاہرہ کا بھی تقاضا کرے گا  اور اس کی بازپرس بھی  ایک درجہ زیادہ فضیلت کے مطابق ہوگی۔ وللہ المثل الاعلی

 ایک مرد کو جو فضیلت اللہ رب العلمین  نے  بحیثیت شوہر کے عطا کی ہے وہ بہت اہم ذمہ داریاں نبھانے  کا تقاضا کرتی ہے ، گریڈ اور رینک  اور عہدے بڑھتے ہیں تو اس کے ساتھ   محاسبہ سخت اور ذمہ داریاں بھی بڑھ جاتی ہیں۔ اسوہ رسولﷺ زندگی کے ہر معاملے میں  ہمارے لیے راہ نجات ہے  دنیا کے مسائل میں بھی اور آخرت کی مشکل منازل طے کرنے کے لئے بھی۔۔ بیویوں کے ساتھ نبی اکرمﷺ کا سلوک ، طرز عمل  مشعل راہ  ہوگا تو زندگی آسان ہوجائے گی۔دنیا کی سب سے مکرم  ومعظم  شخصیت امام الانبیا  ﷺ کا اپنی ازواج سے جو حسن سلوک تھا وہ  ہی قابل تقلید ہے نبی اکرمﷺ کی متعدد شادیوں کی اور بے شمار حکمتیں تھیں ان میں سے ایک امت مسلمہ کے مردوں کو  تعلیم وتربیت کرنا بھی تھا،  بیوی  کی عمر چھوٹی ہو یا بڑی ، خود بڑی عمر میں شادی کریں یا جوانی میں  ،بیوی کا مزاج دھیما ہو یا تیز،رشتہ دار ہو یا غیر، حسب نسب  میں سردار کی بیٹی ہو، دوست کی لخت جگر ہو یا  اسیر جنگ ،خوبصورت ہو یا معمولی شکل کی صحتمند ہو یا بیمار  غرض یہ کہ ہر صورت میں ایک ہی اسوہ قابل تقلید ہے۔   نبی اکرمﷺ نے مردوں کو نصیحت کی کہ اپنی بیویوں کے معاملے میں اللہ سے ڈرتے رہیں  اور یہ کہ تم میں سے بہترین مسلمان وہ ہے جو اپنی بیوی کے ساتھ بہتر ہے۔۔۔ عورت کی فطرت اور جبلت کو سمجھ  جانے والے مرد حکمت سے اس کی ناروا باتوں ، تلخیوں کا حل نکال لیتے ہیں۔ عورت کی فطرت گھاس کی مانند ہوتی ہے بادصبااسے جس رخ پہ چاہے موڑ لے مگر تند وتیز طوفان اسے جڑ سے نہیں اکھاڑ سکتے۔ عورت کی  طبعی کجی  ،ٹیڑھی پسلی کی طرح ہے  اور یہ بناوٹ ہی اس کو موزوں ہے، آپ غور کریں  پسلیوں کی ٹیڑھی بناوٹ    ہونے کے باوجود ان میں لچک ہے اور یہی  ان کی مضبوطی   کا راز ہے  اور دل  جو  بدن کا بادشاہ ہے اس کی حفاظت کے لئے بہترذریعہ ہیں۔      شوہر اپنی بیوی کے دل میں اپنے حسن اخلاق سےجگہ بنا لیتا ہے تو وہ  بیوی کے دل کا بادشاہ  اور سر کا تاج ہے اسی لچکدار مگر کمان کی مانند  مضبوط پسلیوں جیسی جبلت رکھنے والی عورت زمانے کے سرد گرم نشیب وفراز  ، نئے ماحول  میں اپنا آپ منوانا یا بیوگی کے پرآشوب زمانے میں چٹان کی طرح مضبوط رہنا اور اولاد کے لئے باپ  کا کردار بھی نبھانا   اسی جبلت کا کمال ہے۔ بیوی کی وفا  مہر ومحبت  میں استقامت  اس کے مزاج میں طبعی مضبوطی بھی اسی جبلت کے باعث ہے ۔ کچھ چیزوں کے استعمال سےکما حقہ فائدہ اٹھانے کے لئے   ایسی بناوٹ دینی پڑتی ہے کہ جودیکھنے میں   ٹیڑھی لگتی ہیں ،جو اس نکتے کو سمجھ جاتے ہیں وہ اس سے فیض اٹھاتے ہیں جو اس باریک نکتے کو نہیں سمجھتے وہ اس کو سیدھا کرنا چاہتے ہیں نتیجتا  اسے توڑ دیتے ہیں    حدیث مبارکہ میں عورت کی مثال بھی  پسلی سے دی گئی ہے کہ  اس کو اسی بناوٹ کے ساتھ قبول کرو اور اسے سیدھا  کرنے کی کوشش میں اسے  توڑ دو گے   اور اس کا توڑنا طلاق دینا ہے۔   نبی الخاتم ﷺ نے وسیع الاخلاقی   کی تلقین کی تاکہ بیوی کی طبعی  بناوٹ سے مثبت   اور خیر کے پہلو نمایاں ہو سکیں ۔عورتوں میں اگر کچھ کمی کوتاہی ہے تو اللہ

تعالی نے عاشروھن بالمعروف فان کرھتموھن فعسی ان تکرھو شئیا و یجعل اللہ فیہ خیرا کثیرا کی تلقین کی ہے۔۔۔۔

 موافق مزاج کے ساتھ  بہترین گزارا کرنا تو کمال نہیں ہے کمال یہ ہے کہ ناموافق مزاج کے ساتھ  حسن سلوک روا رکھا جائے،اور تقوی ،خدا ترسی کی روش کو فراموش نہ کیا جائے  ۔۔یہ طریقہ  صبر آزما ہے مگر صابرانہ رویہ پہ بے حساب اجر کا وعدہ اس رب کائینات کی طرف سے ہے جو لا یخلف المیعاد۔۔۔

 

Posted by: Bushra Tasneem | ستمبر 10, 2017

وفا کے تقاضے – 18

وفا کے تقاضے

وفا کے تقاضے نبھانا انسانیت کی معراج ہے۔  جس نے جس سے محبت کا دعوی کیا یا  اطاعت کا عہد کیا یا ساتھ نبھانے کا اقرار کیا، اور اس پہ ایمان داری سے قائم رہا  وہ وفا دار ہے۔ اور صبر وہ بنیادی صفت ہے جو انسان کو وفاداری سکھاتی ہے۔ سب سے پہلی وفا رب سے کئے گئے عہد الست  کو نبھانا ہے اور  اس عہد وفاکو  نبھانے کے لئے نفس امارہ سے ہمہ وقت جنگ ہے  اوریہی صابرانہ طرز عمل ہے۔وفا داری بشرط استواری اصل ایماں ہے۔۔اپنے رب سے کئے گئے اس عہد کے بعد  دوانسانوں  کے درمیان پہلا عہد نکاح کا عہد ہے۔اور اس عہد پہ گواہ اللہ رب العلمین ہے۔ اور اس عہد کو وفا کرنے کے سارے قوانین اور طریقے خود اللہ رب الخالق نے وضع کئے ہیں ، تو نتیجہ یہ نکلا کہ جو اللہ سے کئے گئے عہد کا جتنا پاس رکھتا ہے وہ میاں بیوی کے درمیان ہونے والے عہد کو وفا کرنے کا بھی اسی قدر پاس رکھتا ہوگا۔اخلاقیات کے سارے  پہلو میاں بیوی کے رشتے میں پنہاں ہوتے ہیں ۔ جس طرح اللہ کی اطاعت اور  محبت   انسان کو  دنیا  کے معاملات میں بھی صراط مستقیم سے ہٹنے نہیں دیتی اسی طرح میاں بیوی کے درمیان محبت اور عہد نکاح کا پاس ،نسب اور صہر  کے رشتوں میں افراط و تفریط  سےبچائے رکھنے میں ممد ومعاون ہوتا ہے۔ اور جو  ان رشتوں کی پہچان ، ترتیب  وترجیحات کا شعور حاصل کر لیتا ہے دنیا کے باقی سارے رشتوں کے تقاضے بھی احسن طریقے سے نبھانے کا گر سیکھ جاتا ہے۔۔اعتراف حقیقت یہی ہے کہ جو اپنے خالق سے اور اپنی زندگی کے ہمہ وقت ساتھی سے وفا دار نہیں وہ  اپنا خود دشمن ہے ۔اور جو اپنا دشمن آپ  ہی ہو اس کی بد بختی پہ کسی کو دوش نہیں دیا جاسکتا۔۔

جس طرح اللہ رب العلمین کے ساتھ کسی نہج پہ کسی نوعیت کا شرک یا بے وفائی قابل قبول نہیں اسی طرح غض بصر کا حکم دے کرنکاح کے ایفائے عہد کی تربیت شروع کی گئی اور

بے وفائی کی سارے روزن بند کر دئے گئے۔ اور اگر کوئی ان ساری رکاوٹوں ،حصار  اور پابندیوں اور اصولوں کو پامال کرتے ہوئے گندگی کی دلدل میں دھنس جاتا ہے تو اسے زندگی جیسی عظیم نعمت  سے ہاتھ دھونے پڑتے ہیں ۔ یہ اللہ کا قانون ہے۔

ہم جس نام نہاد اسلامی معاشرے میں رہ رہے ہیں وہ منافقت کا ایسا معاشرہ ہےجہاں شریعت کو  اپنے نفس کے تابع رکھنے والے مسلمانوں کی اکثریت ہے،با شعور دیندار گھرانوں میں بھی بحیثیت شوہر کے مردوں کا کردار   قوامیت  کے غلط افکار پہ مشتمل ہے۔ قوام ، اپنے رب کے احکامات سے روگردانی کے اثرات ہی تو اپنے گھر والوں میں دیکھتے ہیں ۔ اپنے اور رب کے درمیان  شجر طیبہ کےتعلق کا بیج جس قدر خالص ہوگا  اور جتنی جڑیں  مضبوط ہوں گی  گھر  میں اسی نسبت سےشجر ثمردار نصیب ہوگا ۔  گھر کےبڑے حوض میں جیسا پانی ہوگا چھوٹے برتن  میں ویسا ہی پانی دستیاب ہوگا۔,،

منافقت اور بے وفائی میں کوئی فرق نہیں ہے ۔ معاہدہ کوئی بھی ہو اور کسی سے بھی ہو، اس میں بے ایمانی کم ہو یا زیادہ منافقت اور بے وفائی ہے۔ اسی طرح نکاح کے معاہدے  میں ایمان داری اور وفا کا اطلاق دونوں فریق پہ یکساں لاگو ہوتا ہے۔  اللہ تعالی نے  سورہ بقرہ میں فرمایا     ولھن  مثل الذی علیھن بالمعروف وللرجال علیھن درجہ  اس آیت کے پہلے حصے میں  انسانی حقوق کی برابری کی بات کی گئی ہے جو  دونوں فریق کو برابر حاصل ہے اور پھر مرد کو ایک درجہ فضیلت کا ذکر کیا گیا ہے، ہمارے معاشرے کے دیندار گھرانوں میں بھی ایک درجہ فضیلت کا تو  بہت  تذکرہ ہوتا ہے مگر بیوی کے انسانی جزبات واحساسات ،عزت نفس کا احساس تک نہیں کیا جاتا۔مرد کے ایک درجہ فضیلت کا مطلب شوہر عموما یہ اخذ کرتے ہیں کہ عورت ہر خوبی میں ہرطرح سے اس سے ایک درجہ کم ہی رہے، صلاحیت، قابلیت، زہانت حتی کہ تقوی کے معاملے میں بھی ہم سے ایک قدم پیچھے ہی رہے۔ نیکی اور صالحیت میں بیوی کی اتنی ہی کوشش پسند کرتے ہیں کہ شوہر کو اپنی نیکی اور صالحیت پہ آنچ آتی محسوس نہ ہو  اسی لئے وہ بیوی کے خاندان کو اس کے بہن بھائیوں والدین رشتہ داروں کو کسی خاطر میں نہیں لاتے ان کی خوبیوں کو تسلیم نہیں کرتے ان کو اپنا مدمقابل سمجھتے ہیں اور بیوی کے باپ ،بھائی اور بہن کے رشتے کو گالی کے طور پہ رواج دینے کا کارنامہ بھی مردوں کا ہی ہوسکتا ہے۔عزت ،شہرت ،دولت  یا تقوی  والے خاندان میں شادی  کرنےکا شوق  تو بہت پایا جاتا ہے  مگر بعد میں اسی خاندان کو  بے وقعت  کرنے کی پوری کوشش کی جاتی ہے  اوربیوی کے لئے باعث وبال بنا دیا جاتا ہے۔   ایک درجہ فضیلت کا یہ تصور رکھنے والے شوہر بیوی کو رفیق زندگی سے زیادہ رقیب زندگی بنا لیتے ہیں  اور خیال کرتے ہیں کہ بیوی ہمارے لئے وبال جان ہے ۔

شریعت نے تمام احکامات چند خاص معاملات کو چھوڑ کر میاں بیوی کے لئے یکساں لاگو کئے ہیں۔ حیا  اور وفاکے تقاضے دونوںکو ایک جیسے ہی نبھانے ہیں ،اور شرعی فرائیض سب پہ یکساں فرض ہیں شرعی سزائیں دونوں  پہ یکساں نافذ ہوتی ہیں ۔وہ سب فطری حقوق جو انسان کے ہیں ان میں کوئی فرق نہیں کیا گیا، دونوں کو محبت ، حوصلہ افزائی ،تعاون حسن سلوک کی ضرورت ہوتی ہے ، اپنی خود داری اور عزت نفس  دونوں کو یکساں عزیز ہوتی ہے۔ ان سب احساسات میں کوئی فرق نہیں ہے جو خوشی ،غمی ،تکلیف ،دکھ درد میں انسان کو ہوتے ہیں ۔مگر بیوی کو  جزبات سے عاری مخلوق سمجھنے والے بھی معاشرے میں کم نہیں ہیں ان میں جاہل ہونا کوئی ضروری نہیں ہے۔ مجازی خدا کے لہجے اور رویے خدائی انداز لئے ہوتے ہیں،وہ توقع رکھتے ہیں کہ  بیوی ان کی سب خواہشات نفس اور  ہر بڑی سے بڑی خطا اور زیادتی کو  بھی   ان کی خوبی سمجھے اوروالہانہ محبت  اور خدمت میں کمی نہ آنے دے ، اس طرح  وفادار بیوی ہونے کا ثبوت دے،  اس وفا داری کا پیمانہ ناپنے کے لئے  اللہ کا حکم ٹوٹے یابیوی کا دل ٹوٹے اس سے غرض نہیں ،  وہ  ایک درجہ فضیلت رکھتا ہے  یہ زعم  ہر بات پہ حاوی رہتا ہے،جس رب نے یہ فضیلت دی ہے اس کے سامنے کھڑے ہوکر اپنے اختیارات  کا حساب دینا یاد نہیں رہتا۔

جب کسی بھی ادارے کے سربراہ کے پاس ٹھوس پائیدار اور مستقل  نصب العین نہیں ہوتا تو وہ اپنی ذات کے بارے میں بھی پر اعتماد نہیں ہوسکتا ، شوہرکا درجہ حاصل کر لینا ہی کوئی قابل قدر اعزاز نہیں ہے اس کے تقاضے نبھانے کے لئے  وسعت قلبی اور اعلی ظرفی کے ساتھ ساتھ نصب العین کے بارے میں شرح صدر ضروری ہے، شوہر کا مقام عالی پا کر ضمیر کا مطمئن ہونا اسی وقت لازم ہے جب اس کے اخلاقی ،معاشی ،ظاہری و باطنی معاملات  کو شرعی طریقے سے نبھایا جانا مطمح نظر ہوگا،  اگر صرف  معمولی سا حق مہر دے کر  شرعی تقاضے  نبھانا سمجھا گیا [حالانکہ  یہ تصور غلط ]  یا زیادہ حق مہر محض  برادری کو مرعوب کرنے کے لئے لکھوانے کا کارنامہ انجام دیا گیا یا بیوی سے زبردستی یا محبت کے نام پہ ورغلا کر  معاف کرانے کی جسارت کی گئی تو گویا  ازدواجی زندگی کی عمارت کی پہلی اینٹ ہی ٹیڑھی ر کھ دی گئی۔ ازدواجی زندگی  گزارنے کے اسلامی آداب مسلم امہ کی تعلیم کا اہم  حصہ ہے اس کی طرف پوری توجہ کی ضرورت ہے تاکہ غیر اسلامی تہذیب کے سب اثرات اور رسوم ورواج ختم ہو سکیں ۔اور اس  عظیم جدوجہد میں  قوام کی ذمہ داری  اہم ہے اس لئے کہ اس کو عورت پہ ایک درجہ اس لئے فضیلت دی گئی ہے کہ وہ مال خرچ کرتے ہیں اور مال خرچ کرنے  یا کروانے کا حساب صاحب مال سے ہی لیا جاتا ہے  ۔اور  رسوم ورواج  مال خرچ کئے بغیر نہیں ہو سکتے۔ کوئی عاقل بالغ ہوشمند  قوام اللہ کے سامنے یہ کہ کر اپنی جان نہیں چھڑا سکتا کہ۰ میں مجبور تھا۰ قوام  ہونے کا منصب  اور  ماتحت  کے سامنے مجبوری  ناقابل فہم ہے ۔ دراصل یہ اپنے   مقام و مرتبے کی عدم پہچان اور  اللہ  کے سامنے جواب دہی کے احساس  کا فقدان ہے۔۔

جب مومن معاشرے میں  شریعت کے معاملات کو اپنی  ضرورت یا خواہش نفس کے مطابق ڈھالنے کی یا اپنے حقوق کو زیادہ فرائض کو کم کرلینے کوشش ہونے لگتی ہے تو عدم توازن  اور خلا پیدا ہو جاتا ہے  اس خلا کو پر کرنے کے لئے  شیطانی تہذیب کے کارندے عمل دخل شروع کر دیتے ہیں  حقوق نسواں کے علمبردار  اس کی ایک مثال ہیں۔ مومن معاشرے میں مومن شوہر اپنے فرائیض ادا کرے تو کسی قسم کی بد نظمی پیدا ہونے کے امکانات نہیں رہتے۔ ہمارا اب تک المیہ یہی رہا کہ قرآن و سنت کےمستند علم سے دوری ہندوانہ تہذیب کے اثرات اور مغربی تعلیم و تہذیب سے مرعوبیت نے   کسی کام کا نہ رہنے دیا ۔ایک طرف یا تو مرد  کی غیر انسانی  برتری کا  ظالمانہ کردار ہے اور دوسری طرف عورت کی آزادی کا  غیر فطری بے رحمانہ نعرہ ہے۔۔ [جاری ہے]

 

Posted by: Bushra Tasneem | ستمبر 10, 2017

بالغ نظری – 17

بالغ نظری

 خوبصورت ،پرسکون زندگی گزارنا  ہر فرد کا خواب ہوتا ہے۔ ہرانسان کی تمنا ہوتی ہے کہ اسے عزت اورمحبت ملے ، اس کی عزت نفس کی پاسداری کا خیال رکھا جائے،

جب اس خواہش اور تمنا  کو اپنی ذات تک محدود کر لیا جاتا ہے  یعنی لینے کی حس جاگتی رہتی ہے اور دینے پہ نفس کی تنگی غالب آجاتی ہے تو حقوق وفرائض کا توازن بگڑ جاتا ہے۔یا پھر رشتوں کے درمیان  حقوق وفرائض  کی تقسیم عدم توازن کا شکار ہوجاتی ہے اور فساد برپا ہوتا ہے۔جب کوئی مرد شادی کرتا ہے تو نئے رشتے بنتے ہیں۔ اس کا پہلا امتحان  رشتوں کے درمیان جزباتی ،معاشی طور پہ توازن برقرار رکھنا ہوتا ہے اور یہی اس کی بالغ نظری کا امتحان بھی ہوتا ہے،حالات و واقعات ہر انسان کے اندر جذباتی و نفسیاتی تبدیلیاں لاتے ہیں،ان تبدیلیوں کے نتائج سےگھر، خاندان  ، کے باہم معاملات و تعلقات  کا توازن بگڑنے کا اندیشہ ہو تو  اسی فرد کو بصیرت  سے کام لینا ہوگا جس کی  وجہ  سے عدم توازن کا خطرہ ہے۔  مرد کی اسی کج فہمی سے معاملات خراب ہوتے ہیں کہ جب  وہ  خواتین  کے ساتھ رشتوں کی   روح سے نابلد ہوتا ہے، اور وہ  ماں بہنوں کی سنتا ہے تو وہ درست لگتی ہیں اور جب بیوی کی سنتا ہے تو وہ مظلوم لگتی ہے۔ وہ یا تو فرار کا راستہ اختیار کرتا ہے اور دونوں کی سن کر کوئی رد عمل ظاہر نہیں کرتا نہ دونوں کے درمیان پیغام رسانی کا ذریعہ بنتا ہے اس صورت میں وہ دونوں کی نظروں میں معتوب ہو جاتا ہے دوسرا  رویہ یہ ہوتا ہے کہ جس کی سنتا ہے اس کو حق سمجھتا ہے تاکہ وہ خوش ہوجائے یا پھر جس کی سنتا ہے اس کے سامنے فریق ثانی کی صفائی پیش کرنے کی کوشش کرتا ہے ۔ ان سب طریقوں سے معاملات  سدھرتے نظر نہیں آتے تو  نابالغ نظر مرد کے پاس ایک ہی راستہ ہے وہ ہے گھر سے فرار۔۔

انسانی رشتوں میں اونچ نیچ فطری امر ہے ،گھروں میں سگے بہن بھائی بھی   اس کا شکار ہوجاتے ہیں قانونی رشتے  میں اس کے امکانات زیادہ ہیں، نزاع میں آسان اور سادہ ساطریقہ یہ ہے کہ جوں ہی کوئی فریق شکایت کرے ، اسے کہا جائے کہ جس سےشکایت ہے اس کے سامنے کہو جو کہنا ہے، اس سے غیبت ،چغلی، الزام تراشی ،بہتان جھوٹ کا سد باب ہوگا اور مرد  کی کشاکش میں کمی ہوگی۔ معاملات اسی صورت میں سنگین ہوتے ہیں جب پیٹھ پیچھے اپنی مظلومیت کا رونا رویا جاتا ہے اوراپنی بات کو سچ ثابت کرنے کے لئے جھوٹ کا سہارا لیا جاتا ہے اور باتوں کو سیاق وسباق سے ہٹاکر پہنچایا جاتا ہے۔ اور ان کی تصدیق  آمنے سامنے بٹھا کر بر وقت نہیں کی جاتی۔

جو مرد  اپنے گھر کے افراد خصوصابیوی اور بہنوں ،ماں کے جذبات کو  سمجھتا اور ان دونوں کو ان کا مقام برقرار رکھنے اور حق دینے کی عملی یقین دہانی کرانے میں کامیاب ہوجاتا ہے بالغ نظر کہلانے کا حقدار ہے۔ وہ مرد جو دلہن سے پہلی ملاقات میں ہی اپنےگھر والوں کو خوش رکھنے کی شرط پہ  اس سے راضی رہنے کی بات کرتا ہے یا پھر بیوی کی خوشنودی حاصل کرنے کے لئے اپنے گھر والوں کو یکسر نظر انداز کرنے کا تاثر دیتا ہے  اپنے مستقبل کے معاملات خراب کر لیتا ہے   کیونکہ اس سے دلوں میں بد گمانی و بے اعتمادی  پیدا ہوتی ہے ۔ہم یہ جانتے ہیں کہ ہر  قسم  کے بدلتے حالات میں اپنے جذبات ،خیالات،معاملات میں توازن رکھنا اور ترجیحات کا تعین کرنا  پرسکون زندگی کی ضمانت ہے۔ لڑکی کے جذبات کو سامنے رکھنا افضل ہے کہ وہ اپنے بہت سے رشتے چھوڑ کر اس ایک فرد کے ساتھ جوڑی گئی ہے، جو اس کی چادر بھی ہے چار دیواری بھی ۔ جب ایک پودے کی پیوندکاری کی جاتی ہے تو نئی زمین میں  جاکر وہ ایک بار تو مرجھایا  ہوا لگتاہے ۔پھر اگر اس کی حسب حال دیکھ بھال  کی جائےتو وہ نشونما  پاتا ہے،جس قدر توجہ سے اس کو نئی زمین میں نشونما کے مواقع فراہم ہوں گے وہ  بہتر نتائج سامنے لائے گا گھر میں آنے والی لڑکی بھی  بالکل اسی طرح   نئے گھر میں مربوط ہوتی ہے۔۔ اس کو  محرم اور غیر محرم رشتوں کی دھوپ چھاؤں کا فہم دینا ، اور اس کے ساتھ ان رشتوں کو شرعی طریقے پہ نبھانےمیں تعاون کرنا،شوہر کی اسی طرح ذمہ داری ہے جیسے نان نفقہ کی ہے۔ بیوی کی ذاتی زندگی کے جذبات و احساسات مثلا اس کی آزادانہ نشست وبرخواست، اس کےخواب گاہ کی پرائیویسی ، سامان کی اپنی ملکیت ،رشتہ داروں کے  آنےاور ان کی  خاطر تواضع پہ فراخ دلی، شوہر کا  فرض ہے ۔مشترکہ خاندانی نظام  کی صورت میں بھی  بیوی کو ایسا یونٹ مہیا ہونا چاہیے جہاں وہ   جگہ  اور وقت کی اپنی ملکیت کے احساس کے ساتھ زندگی گزار سکے ۔

حسن نیت کے ساتھ تقویٰ کا رویّہ اختیار کرتے ہوئے  اللہ ربّ العزت سے استعانت کی ہر دم دعا کرنے سے معاملات میں کجی کے امکانات کم ہوتے ہیں۔ ماں کا درجہ جو ہے اس میں کمی نہ ہو اور ماں کو یقین آجائے کہ بیٹا مجھے وہی مقام دیتا ہے جو اس کا ہے تو ماں جو قربانی وایثار کا  استعارہ ہے خود اس کی خوشی کو ترجیح دے گی، بیوی کو یہ یقین دہانی ہو جائے کہ جو محبت اس کا حق ہے وہ اسی کو مل رہی ہے تو بیوی سے بڑھ کر مرد کے لئے کوئی باعث سکون نہیں ہو سکتا ۔ مسئلہ اسی وقت بنتا ہے جب رشتوں کے مقام اپنی جگہ سے اور حدود سے تجاوز کر جاتے ہیں۔اور ترجیحات کا تعین نہیں ہو پاتا۔

ہر انسان کو اپنی ذات اور اس سے وابستہ رشتے عزیز ہوتے ہیں اور جب ان رشتوں میں جدائی ہوجائے تو  وہ اور بھی پیارے ہو جاتے ہیں ۔مرد کو اپنے رشتوں سے دوری کا سامنا نہیں کرنا پڑتا مگر وہ لڑکی جو نازک جذبات رکھتی ہے اپنے پیارے رشتے چھوڑ کر آئی ہے اس کی دل جوئی اور اس کے رشتوں کا احترام کرنا اور اپنے گھر والوں سے کرانا  شوہر پہ واجب ہے۔ نئی دلہن کو اپنے گھر والوں کے مزاج ،عادات ،باہم کم یا زیادہ اچھے باہمی تعلقات  کے بارے میں پہچان کروادینا ضروری ہے۔  اور بیوی سے یہ توقع رکھنا کہ وہ سارے  گھر والوں کے مزاج خود سے چند دن میں جان  کرسب کو خوش رکھے ،  زیادتی ہے،،شوہر کو اس بات کا ادراک  ہونا چاہیے کہ ہر لڑکی کے لئے اب اس کا شوہر ہی ہر رشتے کا نعم البدل ہے۔ ہر لڑکی کو ساری عمر  باپ کی شفقت اور بھائی جیسی مہربان ہستی کی ضرورت رہتی ہے  اور وہ اپنے شوہر کو اپنے لئے پوری دنیا کے برابر سمجھتی ہے۔ جو مرد اپنی بیوی کا مان رکھنے میں کامیاب ہوتے ہیں وہی دراصل سر کا تاج  کہلانے کے حقدار ہوتے ہیں۔ اور یہ بھی یاد رکھنا چاہئے کہ سجدہ تعظیمی ایک مومن  شوہر کو جائیز ہوتا،  اللہ  کی نافرمانی پہ بیوی کو اکسانے والےشوہرکو  نہیں ،اس لیے کہ اللہ کی نافرمانی میں مخلوق کی اطاعت نہیں ہو سکتی۔[لاطاعۃ لمخلوق فی معصیت الخالق] اللہ کی مقرر کردہ حدود سے تجاوز کرنا فاسقوں کا کام ہے۔۔

جو مرد  شوہر ہونے کے زعم میں  بیوی کومجبور کرتے ہیں کہ ان کی خواہشات نفس  کے مطابق زندگی گزارے اور بیوی کی معاشرتی مجبوریاں ان کو  خالق کی معصیت میں شوہر کی اطاعت پہ  آمادہ کرتی ہیں تو مرد ہی جواب دہ زیادہ ہوں گے۔اس لئے  کہ اس رب نے قوام کا درجہ اپنی اطاعت کروانے کے لئے دیا ہے نہ کہ نافرمانی کرانے کے لئے۔۔  دنیا میں اللہ تعالی کی مکمل اطاعت کرنے اور کروانے کے لئے ،بالغ نظری  سے معاملات کو دیکھنے اور ان سے نبرد آزما ہونے کے لیے اپنے نفس کی تربیت  کرنا پڑتی ہے۔ اس کی تربیت کے لئے صابرانہ رویہ بنیادی اہمیت کا حامل ہے۔صبر وہ صفت ہے جس سے انسان تقوی کے اس مقام کو پا لیتا ہے،جہاں خالق اور مخلوق دونوں کی نظروں میں  بلندمقام ومرتبہ حاصل ہوتا ہے۔ معاملہ  اپنے نفس کے سلجھاؤ کا ہو یا اپنے ارد گرد کے متعلقین کے مابین معاملات کے سلجھاؤ کا صبر کی صفت ہی کامیاب کراتی ہے کہ یہ پیغمبرانہ صفت ہے۔ قرآن پاک میں  بار بار اس کی تلقین کی گئی ہے۔ اور کسی بھی انسان کے کردار کی مثبت تعریف کرنا ہو تو اس کے  صابرانہ طرز عمل  کو ہی پیش نظر رکھا جاتا ہے ،اور صبر کی حقیقت یہی ہے کہ معاملہ چھوٹا ہو یا بڑا   جذبات، خواہشات  اور زبان کو قابو میں رکھنا،جلد بازی،گھبرا ہٹ، ہراس،طمع اور نامناسب جوش سے بچنا۔ جچی تلی حکمت والی قوت فیصلہ برقرار رکھنا۔ اشتعال انگیز حالات میں غیظ وغضب  کا ہیجان اپنے اوپر غالب نہ آنے دینا،نیم پختہ تدبیر سے معاملات کو چلانے کی کوشش نہ کرنا۔مشورہ کرنے کے لئے غیرجانبدار خیر خواہ سے مشورہ کرنا۔ اپنی غلطی کو تسلیم کرنا اور اصلاح کا ارادہ کرنا۔ دوسروں کی غلطیوں سے در گزر کرنے کے لئے اپنی انا  کو مارنے کے لئے نفس پہ جبر کرنا ہے،

ان صابرانہ طرز عمل کو زندگی میں راسخ کرنے کے لیئے مسلسل ساری عمر جدوجہد کرنا ہوگی ، صبر وہ صفت ہے جس کی تربیت  زندگی کے آخری سانس تک کرنے کی ضرورت ہوتی ہے کیونکہ یہ نفس کے ساتھ مجاہدہ ہے،  اور وفا کے تقاضے رب سے نبھانے ہوں یا بندوں سے  نفس سے  چومکھی لڑائی لڑنا پڑتی ہے۔ اور فرمایا رب العالمین نے  قد افلح من زکھا وقد خاب من دسھا ۔[۔الشمس]  [جاری ہے]

Older Posts »

زمرے