Posted by: Bushra Tasneem | اپریل 16, 2018

افتتاحیہ

نحمدہ ونصلی علی رسوله الکریم

 

الله رب العالمين کی تہ دل سے شکر گزار ہوں کہ اس نے یہ سعادت عطا فرمائی ہے کہ ہم چالیس روزہ دورہ حدیث کی مکرر تذکیر شروع کرنے جا رہے ہیں۔اس میں ہم منتخب احادیث کو سمجھنے اور عمل میں لانے کی کوشش کریں گے۔ اس سلسلے کے بارے میں آپ کی رائے کا انتظار رہے گا۔
ہم سب اپنے اپنے دل میں سکون کی اس کیفیت کو محسوس کریں کہ اس وقت ہم سب کے لئے کائنات کی ہر شے دعاگو ہے۔
ہم الله رب العزت کے ان مخصوص فرشتوں کے حصار میں ہیں جو خاص طور پہ ایسے طالب علموں کے لئے بھیجے جاتے ہیں۔
الله تعالیٰ نے اپنے پیارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے ایسے علم کے خواہش مندوں کی بابت فرمایا تها۔ سورہ الانعام کی آیت نمبر 54 میں آپ کے لئے ہم سب کے لئے اپنے پیارے رسول کو تاکید کی کہ آپ کو اور مجهے” السلام علیکم” کہ کر سلامتی کی دعا دیں ۔سبحان اللہ
قیامت تک کے لئے ایمان والوں کی خوش بختی ہے کہ نبی کریم کی طرف سے سلامتی کی دعا مل رہی ہے اور اس محفل میں آنے سے پہلے ان جانے میں ہو جانے والی خطاؤں سے درگزر کا وعدہ رب کی طرف سےمل رہا ہے . جن کے بارے میں خود الله اپنے نبی سے فرمائے کہ ان کو کہئے "سلام علیکم”. . تو بجا ہے کہ نازکیا جائے اپنی خوش بختی پر۔

 

(وَإِذَا جَاءَكَ الَّذِينَ يُؤْمِنُونَ بِآيَاتِنَا فَقُلْ سَلَامٌ عَلَيْكُمْ ۖ كَتَبَ رَبُّكُمْ عَلَىٰ نَفْسِهِ الرَّحْمَةَ ۖ أَنَّهُ مَنْ عَمِلَ مِنْكُمْ سُوءًا بِجَهَالَةٍ ثُمَّ تَابَ مِنْ بَعْدِهِ وَأَصْلَحَ فَأَنَّهُ غَفُورٌ رَحِيمٌ)

سورہ الانعام 54

جب تمہارے پاس وہ لوگ آئیں جو ہماری آیات پر ایمان لاتے ہیں تو ان سے کہو "تم پر سلامتی ہے تمہارے رب نے رحم و کرم کا شیوہ اپنے اوپر لازم کر لیا ہے یہ اس کا رحم و کرم ہی ہے کہ اگر تم میں سے کوئی نادانی کے ساتھ کسی برائی کا ارتکاب کر بیٹھا ہو پھر اس کے بعد توبہ کرے اور اصلاح کر لے تو وہ اُسے معاف کر دیتا ہے اور نرمی سے کام لیتا ہے”
اور مزید خوش ہو جائیں کہ آپ کے بارے میں خود نبی اکرم نے فرمایا ہے
حدیث کا مفہوم بیان کر رہی ہوں اس کا تذکرہ ڈاکٹر محمود احمد غازی مرحوم نے اپنی کتاب” محاضرات حدیث” میں کیا ہے۔
ایک بار نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ "اے الله میرے جانشینوں پہ رحمت فرما صحابہ کرام نے پوچھا آپ کے جانشین کون ہیں؟تو آپ نے فرمایا جو میرے بعد آئیں گے حدیث کا علم سیکھیں گے سکھائیں گے اور لوگوں تک پہنچائیں گے وہ میرے جانشین ہیں..اور یہ خوشخبری قیامت تک کے لئے ہے۔
اور یہ بشارت اس وقت آپ کے حصے میں آگئ ہے الحمدللہ۔
اس سے معلوم ہوتا ہے کہ حدیث کو یاد رکھنا محفوظ کرنا ،سیکھنا، سکھانا ،پھیلانا فضیلت کی بات ہے
یہ تو آپ سب جانتے ہیں کہ حدیث مبارکہ کے علم کے بغیر کلام الله کے احکام سمجھنا مشکل ہے۔
حدیث کا کیا معنی ہے؟
حدیث کے معنیٰ ہیں کوئی نئی بات، نیا طریقہ جو ممتاز ہو. اس کو اس طرح بهی دیکھیں کہ الله کی ذات ہمیشہ سے ہے اس کا کلام بهی اس کی ذات کی طرح سچا ہے ہمیشہ سے ہے اور وہی کلام ہے جو آدم علیہ السلام کے ساتھ اتارا گیا اور ہر نبی سے ہوتا ہوا خاتم النبیین تک آیا یعنی "توحید اور آخرت”. اور اس علم کے ساتھ ایک رسول اتارا گیا۔
ہر نبی کو اس کے اپنے زمانے کے مطابق شریعت عطا کی گئ۔خاتم النبیین کی بات نئے دور کے مطابق ہے اور اس نبی کا دور قیامت تک نیا ہی رہے گا۔ اس لئے قدیم کلام الله (توحید اور آخرت کی تعلیم)تو وہی ہے لیکن دورجدید کے مطابق طریق زندگی رسول کی تعلیمات اور اعمال سے پتہ چلتی ہے۔اور اس علم کو "حدیث” کہا جاتا ہے۔نئی چیز،نیا کلام،نیا واقعہ سب سے منفرد اور ممتاز کلام کو "حدیث” کہتے ہیں۔ جس کو ماڈرن بهی کہا جا سکتا ہے۔اور میڈیا کی زبان میں بریکنگ نیوز بهی کہ سکتے ہیں
اب اس دورجدید کے تقاضے پورے کرنے کے لئے حدیث رسول اور سنت رسول ہی زمانے کے تقاضے پورے کر سکتی ہے۔اس علم کو حاصل کرنے کے لئے حدیث کا علم لازمی ہے۔ جس کو اپنے نبی سے محبت کا دعوی ہوگا اس کو ان کی ہر بات سے بھی لگاؤ ہوگا..اور یہ کیفیت دل کے حاضر ہونے سے حاصل ہوتی ہے
دل کی کیفیت میں گرمئ محبت کا احساس پیدا نہ ہو تو الله سے طلب کیجئے دلوں کا حال بدلنے پہ وہی قادر ہے لیکن وہ ان کا دل ہی بدلتا ہے جو اس کی تڑپ رکھتے ہیں..
نیت کا خالص ہونا کتنا ضروری ہے اس کا ہم سب کو علم ہے۔دعا ہے کہ ہمارا عمل ،علم سے آگے بڑھ جائے۔

 

ربنا لا تزغ قلوبنا بعد إذ هديتنا و هب لنا من لدنک رحمه انک انت الوهاب .

 

آپ سے مجهے جو الله کے لئے محبت اور تعلق ہے اس کے حوالے سے یہ گزارش ہے کہ وہاں مجھے پہچان کر میرا ہاتھ تهام لیجیے گا جہاں کوئی کسی کو نہیں پہچانے گا مگر الله کی خاطر محبت کرنے والے ایک دوسرے کو پہچان لیں گے حوصلہ دیں گے..ان شاءالله
اللہ تعالی ہمارے نیک ارادوں میں ہمیں کامیاب فرمائے۔آمین


 

Advertisements
Posted by: Bushra Tasneem | مارچ 2, 2018

پیغام صبح ۔ ۶۰

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

” الدین النصیحہ ” کے تحت دو ماہ ہمارا ساتھ رہا. ،الحمدللہ علی ذالک ، الله رب العالمين کی توفیق سے ہر نیکی کا ظهور ہوتا ہے اس کی شان رحمت سے قوی امید ہے کہ ہمارے اس نیک عمل کو پیارے رب نے قبولیت کی سند بهی عطا کی ہوگی. ہم عاجزی سے اس رب کے حضور یہ التجا کرتے ہیں کہ وہ ہمارے دل ایمان اور ہدایت پہ جمائے رکھے، اور مزید نیک ارادوں میں کامیاب فرمائے.
ان شاءالله ہم اب چالیس احادیث کی روشنی میں اپنے نفوس کا تزکیہ کرنے کی کوشش کریں گے.
آپ سب کی طرف سے پیغام صبح پہ تعاون اور حوصلہ افزائی پہ مشکور ہوں الله سبحانه وتعالى آپ سب کو اس کا بے حد وحساب اجر عطا فرمائے. آپ کی وساطت سے یہ پیغام مزید جن لوگوں تک پہنچا وہ عمل ہم سب کے لئے صدقہ جاریہ بنے گا ان شاء الله. اسی رب العرش العظيم کے ہم شکر گزار ہیں کہ اس نے ہمیں اس نیکی کے وسائل اور آسانیاں فراہم فرمائی ہیں. ہم سب میں سے اکثر ایک دوسرے سے ناواقف ہیں لیکن الله کے لئے ایک دوسرے سے جڑے ہوئے ہیں ہم سب کا یہ تعلق اس میدان حشر میں کام آئے گا جب کوئی کسی کو نہیں پہچانےگا . اس دن ہم سب ایک دوسرے کو پہچان لیں گے اور ان شاء الله اس وحشت کے دن ایک دوسرے کی تقویت کا باعث بنیں گے..ہم سب کو یہ خوش خبری مبارک ہو
ہر جمعہ مبارک کو سورہ الکہف والا سلسلہ جاری رہے گا. باقی دنوں میں ان شاء الله احادیث رسول الله صلى الله عليه وسلم سے دن کے گیارہ بجے کے بعد استفادہ کریں گے..الله تعالیٰ ہمیں ہمارے ارادوں میں اپنی استعانت کے ساته کامیاب فرمائے ..
ربنا تقبل منا انک انت السمیع العلیم و تب علینا انک انت التواب الرحیم.
دعا کی طلبگار. .بشری تسنیم

Posted by: Bushra Tasneem | مارچ 1, 2018

پیغام صبح ۔ ۵۹

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته
دنیا کے لئے خیر و برکت کا باعث ہونا مبارک ہو


دنیا میں صالح اور بد ہر طرح کے لوگ پائے جاتے ہیں. اور کوئی شخص کتنا ہی برا کیوں نہ ہو کوئی نہ کوئی خوبی ضرور اس میں ہوتی ہے.وہ خوبی برائیوں پہ غالب آنے والی ہےتو خیر کی توقع موجود رہتی ہے. اسی طرح اگر کوئی بہت خوبیوں کا مالک ہی کیوں نہ ہو جائے اس میں انسانی فطری کمزوری یا خامی ضرور پائی جاتی ہے.اگر یہ خامی اتنی بهاری ہے کہ خوبیوں پہ حاوی ہوجاتی ہے تو اس سے خیر کی توقع دب جاتی ہے. الله کے آخری رسول صل اللہ علیہ و سلم نے ایک سادہ سا اصول وضع فرمایا کہ "خیر الناس من ینفع الناس ”
ہمیں اپنا جائزہ لیتے رہنا چاہئے کہ ہم لوگوں کے لئے کتنے باعثِ خیر ہیں. کچھ لوگ الله کی مخلوق کے لئے اتنے خیر و برکت کا باعث ہوتے ہیں کہ ان کی وجہ سے الله اپنے غصے اور عذاب کو ٹالتا رہتا ہے. اور کچھ لوگ اپنی شر انگیزی سے بحر و بر میں فساد کا باعث بنتے ہیں اور الله تعالیٰ کے غضب کو دعوت دیتے ہیں.پهر زمین میں بسنے والے سب نیک و بد اس کی لپیٹ میں آجاتے ہیں. اور یہ معاملہ گھروں کی چهوٹی دنیا سے شروع ہوکر بین الاقوامی معاملات تک جاتا ہے .. کوئ فرد میاں بیوی میں فساد ڈالنے والا ہو یا بہن بهائیوں میں یا کاروبار کے شراکت داروں میں یا قوموں کے درمیان بہرحال وہ الله تعالیٰ کی زمیں میں فتنہ پیدا کرتا ہے. اور فتنہ قتل سے زیادہ برا ہے.
"خیر الناس من ینفع الناس ” کے آئینے میں ہم اپنا جائزہ لے کر الله اور اس کے رسول کی نظر میں اپنا مقام و مرتبہ متعین کر سکتے ہیں. لوگوں کے لئے سب سے بہترین خیر یہ ہے کہ انہیں ان کے رب سے جوڑا جائے. ان کے لئے آسانیاں فراہم کی جائیں ، جنت کا باسی بننے میں مدد کی جائے دوزخ سے بچایا جائے.
اے الله رب السموات والأرض ہمیں اپنی مخلوق کے لئے خیر کا باعث بنا دیجئے اور ان لوگوں میں شامل نہ کیجئے جو مغضوب ہیں یا گمراہ ہیں.اور زمین میں فساد کا باعث ہوتے ہیں.. آمین.
دعا کی طلبگار؛بشری تسنیم

Posted by: Bushra Tasneem | مارچ 1, 2018

پیغام صبح ۔ ۵۸

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته
انبیاء کے نقش قدم پہ چلنا مبارک ہو


جنت میں داخل ہونے کا کوئ شارٹ کٹ نہیں ہے. اگر ہوتا تو انبیاء کرام علیہم السلام کی زندگیاں مصائب کا شکار نہ ہوتیں. خاتم النبیین محمد صلى الله عليه وسلم نے غار حرا کی تنہائیوں میں دن رات گزار کر حق کو پانے کی جستجو کی..جب الله رب العالمين نے ان کو رسالت کا فریضہ سونپا تو پهر اس فرض کی ادائیگی پہ ہی تن من دهن لگا دیا. .کبھی دوبارہ اس جگہ نہ گئے نہ غار حرا کے پرسکون مقام کی یاد ستائی نہ ہی ان ناقابل فراموش لمحات کی یاد منانے ہر سال غار میں جا کر چراغاں کیا نہ مٹھائیاں بانٹیں کہ مجهے اس دن اس مقام پہ آخری نبی کا مرتبہ عنایت کیا گیا تها. کیا خاتم الانبیاء کا اعزاز ملنا کوئی معمولی بات تهی،؟ غیر معمولی اعزاز تها اسی لئے غیر معمولی احساس ذمہ داری تهی. اس قدر ذمہ داری کہ ہر لمحہ اس کا احساس غالب رہا، اپنوں نے گالیاں دیں. مجنوں، دیوانہ، شاعر کہا. سالوں معاشرتی مقاطعہ کیا.، ہر قسم کے طعن و تشنیع کے تیر سہے.طائف کی وادی میں پتھر کهائے ، وطن چهوڑا الله تعالیٰ نے اپنے سب سےپیارے بندے کو اس قدر مشکلات میں کیوں ڈالا؟ کوئ دعا سکهائی ہوتی کوئی وظیفہ بتایا ہوتا جس سے سارے مشرک موحدین میں شامل ہوجاتے. کیا الله کے لئے کچھ مشکل تها ایسا کرنا؟ ہر گز نہیں، وہ قادر مطلق ہے جو چاہتا ہے کر سکتا ہے..
دین اسلام کا نفاذ انسان نے چند فٹ کے وجود پہ کرنا ہو یا پوری دنیا پہ اس کا پرچم لہرانا ہو، شارٹ کٹ کے بغیر کرنا ہوگا. جنت کا حصول ہر لمحہ تقوی کی زندگی کا تقاضا کرتا ہے. یہی کامیابی کی شر ط ہے.. تقویٰ کیا ہے؟ یر نیک عمل کا مقصد الله سبحانه وتعالى کی محبت کا حصول ہو اور یہی محبت چهن جانے کا خوف ہر لمحہ نافرمانی سے باز رکهے تو یہی تقویٰ ہے. اور تقویٰ ہی جنت میں داخلے کا ٹکٹ یا اجازت نامہ ہے.. "اور اس جنت کے وارث تقویٰ اختیار کرنے والے لوگ ہیں ” (مریم :63 ) تقویٰ کا پیمانہ کسی بند کمرے میں بیٹھ کر اوراد و وظائف کرنے سے نہیں بلکہ میدان عمل میں آنے سے پتہ چلتا ہے .
انبیاء کرام کو جنت کی خوش خبریاں دے کر مبعوث فرمانے والے رب؛ہم تقویٰ کی زندگی کے طلبگار ہیں ، ہم پہ وہ بوجھ نہ ڈالیو جس کو ہم اٹھا نہ سکیں، ہر لمحہ اپنی محبت کا جذبہ زندہ رکهیو اور اس محبت کے چهن جانے کا خوف ہر خوف پہ غالب فرمایئو، امت مسلمہ کو فرائض کی ادائیگی کے لئے بیدار دل عطا فرمائیو آمین
طالب دعا؛ بشری تسنیم

Posted by: Bushra Tasneem | فروری 26, 2018

پیغام صبح ۔ ۵۷

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته
امت مسلمہ کا فرد ہونے کی سعادت نصیب ہونا مبارک ہو

امت مسلمہ جسد واحد ہے. کہیں بهی کسی ایک مسلم پہ زیادتی ہو تو باقی مسلمانوں کو اس کو درد محسوس کرنا چاہئے.ہم سب دیکھ رہے ہیں سن رہے ہیں کہ ساری کافر طاقتیں مسلم امت کے خلاف ملت واحدہ ہیں..شام کی تباہی میں سب شامل ہیں..امت مسلمہ انتشار کا شکار ہے..ہم حکمرانوں ، لوگوں کی بے حسی کا رونا روتے رہتے ہیں.. سوچنے کی بات یہ ہے کہ دوسروں کو کوستے رہنے سے کیا حالات بدل جائیں گے؟ظالمانہ کارروائیوں کی تشہیر کرنے سے کوئی اعلیٰ مقصد حاصل ہو پائے گا؟کیا یہ أعمال الله سبحانه وتعالى کے حضور ہماری نجات کا باعث بن پائیں گے؟ نفس تسلی دیتا ہے کہ ہم بے بس ہیں. جب سارے مسلمان ایک جسد واحد ہیں تو اس جسد کی اتنی بہتری تو ہم کر سکتے ہیں کہ اپنے آپ کو درست کر لیں .اپنے گھر خاندان محلے مزید جہاں تک ممکن ہو جس طرح ممکن ہو جتنی اور جیسی استطاعت ہو إصلاح کا عمل دامے درہمے. سخنے جاری رکھیں. سب سے پہلے استغفار انفرادی اور اجتماعی اپنے لئے امت کے لئے. .اپنے نفس کا تزکیہ. .برائیوں سے اچھائیوں کی طرف ہجرت. اپنی زندگی سے تعیشات نکال دیں سادگی اپنائیں.دولت کو الله کی راہ میں لگائیں .رزق حلال کمائیں. مشکوک کمائی دلوں کے سخت ہونے کا باعث بنتی ہے. ہم سے الله تعالیٰ نے اتنے ہی سوال کرنے ہیں جس کے ہم مکلف ہیں..جب ظلم کی تشہیر کا ہم حصہ بنتے ہیں اور اپنا تزکیہ نفس نہیں کرتے ظلم کی آگ اپنے تک پہنچنے سے روکنے کی تدابیر نہیں کرتے تو اپنے اوپر ظلم کرنے کی دعوت دیتے ہیں.عوام الناس میں ظلم و ستم کی خبریں نشر کرنے کا کام فرض نہیں ہے اس انجام سے خود کو بچانا اور أن کی خاطر اپنے مال میں حصہ لگانا ضرور فرض ہے،اور اپنے آپ کو اور متعلقین کو الله تعالی کے غضب سے بچانا فرض ہے. امت کے جس حصے میں درد ہے اس کا مداوا کرنے کے لئے جو آپ کو استطاعت دی گئ ہے اس کے مطابق زمیں میں شر کو روکنا فرض ہے. اگر ہم اور آپ اس ظلم کو روکنے کے لئے اپنی استطاعت کو تلاش نہ کریں گے اور عمل کی طرف نہیں بڑھیں گے تو نجات نہیں پا سکیں گے..دعاء شدت اور خلوص کے ساتھ اس طرح ، جیسے اپنے بدن کا حصہ تکلیف میں ہے اور دوا کا کام اپنے گناہوں سے توبہ اور اصلاح عمل ہر فرد کرے تو امت مسلمہ میں اتحاد کی رو ح بهی پیدا ہو جائے گی. .. ان شاءالله
اے معاف کرنے والے رب؛ہمیں انفرادی اور اجتماعی طور پہ معاف فرما دیجئے. ہمارے قلوب کی اصلاح فرما دیجئے.امت مسلمہ پہ رحم فرمایئے اور ہمارے کرنے کے کام ہم پہ واضح فرمایئے امت کو واقعی جسد واحد بننے کی توفیق عطا فرمائیے ..مسلمانوں کی اپنے لشکروں سے مدد فرمائیے. اپنے اور اسلام کے دشمنوں کو نیست نا بود کرنے کے سارے وسیلے مسلمانوں پہ عیاں فرمائیے اور مدد فرمائیے آمین
طالب دعا :بشری تسنیم

Posted by: Bushra Tasneem | فروری 26, 2018

پیغام صبح ۔ ۵۶

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته
حصول تقویٰ کے لئے حسب استطاعت کوشش کرنا مبارک ہو

الله رب العزت نے تقویٰ کی بنیاد پہ معزز ہونے کا معیار مقرر فرمایا. تقویٰ کو جنت کے حصول کا ذریعہ قرار فرمایا اور "فاتقوا الله ما استطعتم” کا اختیار دے کر آسانی فراہم کی..
استطاعت کے بارے میں ہمارا کیا خیال ہے؟استطاعت کا ہم صحیح اندازہ کیسے لگائیں؟نفس عیار ہے سو بهیس بدل لیتا ہے. استطاعت کے معنیٰ حتی الامکان کوشش کے بهی ہیں. اب جو استطاعت مالک نے عطاء کی ہے اس کا ایمان داری سے کھوج لگانا پڑے گا کیونکہ نفس تو کسی مشقت میں پڑنا ہی پسند نہیں کرتا. استطاعت جسمانی مطلوب ہے یا ایمانی؟ کیا جسمانی استطاعت وافر ہونے سے عبادت و فرماں برداری بهی زیادہ ہوتی ہے؟ غور کریں تو یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ ایمانی استطاعت کے امکانات کا شعور وافر ہو تو وہ معذور کمزور جسمانی استطاعت پہ بهی حاوی ہو جاتا ہے. اگر دونوں حالتیں ہی زیادہ استطاعت کی حامل ہوں تو "نور علی نور” ہے. دراصل ایمان کا پیمانہ ہی اطاعت کے امکانات کو روشن کرتا ہے.. تدبر کی بات یہ ہے کہ فرماں برداری کے لئے کیا ہم نے جسمانی، مالی استطاعت کو دریافت کر لیا ہے جو رب نے عنایت کی ہے یا کم استطاعت کے عذر صرف ہمارے نفس کی شرارتیں ہیں… کیونکہ ہر فرد سے محاسبہ اس کو ملنے والی ہر نعمت کے حساب سے لیا جائے گا. توانائیوں کی نعمت استطاعت کہاں خرچ کی؟الله کی راہ میں مال خرچ نہ کرنے میں کیا عذر مانع تهے؟ یہی تو فرمایا رب العزت نے کہ "ولتسئلن یومئذ عن النعیم” اس محاسبے والے دن ہر نعمت کے "لینے اور دینے” کے پیمانوں کو جانچا پرکها جائے گا. کیا واقعی ہم تقویٰ کی روش پہ چلنے کے سارے امکانات کا جائزہ لے کر تن من دهن سے حتی الامکان کوشش کیا کرتے ہیں؟استطاعت کا پیمانہ فانی دنیا کے لئے کتنا ہے اور آخرت کی ابدی زندگی کے لئے کتنا ہے؟؟
اے مالک دو جہاں؛ ساری کائنات کے آپ مالک ہیں.ہم کسی چیز کا احاطہ کرنے سے قاصر ہیں آپ ہمارے لئے نیکی کرنے کے سارے امکانات روشن اور آسان فرمایئے. ہماری ظاہری و باطنی استطاعت کو ہم پہ آشکار کر دیجئے ہمارے لئے تقویٰ کی راہیں ہموار کر دیجئے. اور ہماری استطاعت سے زیادہ ہمیں کسی آزمائش میں نہ ڈالئے ہم کمزور ہیں ہمارے ساتھ عفو وکرم کا معاملہ کیجئے ہمارا محاسبہ آسان کیجئے آمین
طالب دعا؛ بشری تسنیم

Posted by: Bushra Tasneem | فروری 24, 2018

پیغام صبح ۔ ۵۵

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته
اپنی أصل شخصیت کو دریافت کر لینا مبارک ہو (من عرف نفسه عرف ربه )

إنسان کو اصل میں اطمینان اس وقت حاصل ہوتا ہے جب وہ اپنے آپ کو پہچان لیتا ہے.. اپنے جوہر قابلیت کی شناخت کر لیتا ہے. اسی وقت اسے اپنی ذات پہ اعتماد کرنا آتا ہے. انسان کی جو طبعی فطرت ہے وہی اس کی شخصیت ہے.طبعی فطرت اس کے دل کا میلان ہے. الله رب العزت نے دل کی ساخت ہی ایسی بنائ ہے کہ اسے اپنے رب کی یاد میں ہی سے اطمینان ملتا ہے. (آلا بذکر الله تطمئن القلوب) انسان کیا چاہتا ہے جب اس پہ کوئ پابندی نہ ہو معاشرے کی،گھر والوں کی، سرپرست کی تو اس کے دل میں کیا کرنے کی خواہش غالب آتی ہے؟جب اسے موقع ملتا ہے اپنی مرضی کرنے کا تو اس کا دل کس عمل پہ راضی اور خوش ہوتا ہے.جب وہ تنہا ہوتا ہے تو کیا افکار وأعمال اس سے سرزد ہوتے ہیں؟
ہر انسان اپنے باطن کو خوب جانتا ہے لوگوں کے سامنے وہ کیسی ہی معزرتیں پیش کرے (بَلِ الْإِنْسَانُ عَلَىٰ نَفْسِهِ بَصِيرَة
وَلَوْ أَلْقَىٰ مَعَاذِيرَهُ) سورہ القیامہ
اگر کسی بچے کے فطری مزاج کو جانچنا ہو تو اس کے تنہائ میں کی جانے والے کام یا شرارتوں سے جانچا جا سکتا ہے.. ہم بهی تنہائ اور فراغت کے وقت کیا کرنا چاہتے ہیں. دل کن ادهورے منصوبوں یا محرومیوں کی تکمیل چاہتا ہے؟ آنکھوں اور کانوں اور زبان کا کیا استعمال ہوتا ہے؟کیسی محفلوں میں جانے کو دل مچلتا ہے ؟ موبائل اور لیپ ٹاپ کے ساتھ جب وقت گزرتا ہے تو کیا الله یاد رہتا ہے؟
تنہائ کے وقت یا فرصت کے لمحات مثبت نیک کام میں صرف کرکے دل خوش ہوا تو ہم خوش نصیب ہیں کیونکہ جو تنہائ اور فرصت کااس لئے متلاشی ہو کہ اپنے رب سے راز و نیاز کر سکے رب کو راضی کرنے کے کاموں کے منصوبے بنا سکے تو وہ ہی الله والا ہے.. ہماری تنہائیاں ہماری پہچان ہیں . اور اسی پہچان میں دل کا اطمینان مخفی ہے.ہر محب چاہتا ہے کہ محبوب سے ملاقات تنہائ میں ہو،جب ہماری خلوتیں ربانی ہوجائیں گی تو جلوتیں بهی نورانی ہوجائیں گی.
آج تنہائ میں سوچنا ہے کہ اب تک ہماری تنہائیاں کس کے نام رہی ہیں اور اب کیا مطلوب ہے اور زندگی کی خوشیاں حاصل کرنے کے لئے دل کا میلان کیا بنانا ہے؟ لیس للإنسان إلا ما سعی…انسان کو وہی ملتا ہے جس کے لئے کوشش کرتا ہے..
اے الله آپ الطیف الخبیر ہیں ہم اپنی خواہشات نفس کے ہر برے میلان سے بچنے کے لئے آپ کی پناہ میں آتے ہیں.ہمارے نفوس کا تزکیہ فرمایئے. ہمارے دلوں کو اپنی مرضی کے تابع فرمایئے اور ہماری تنہائیوں کو اپنے ذکر اور مناجات سے پر نور فرمائیے. آمین
طالب دعا؛ بشری تسنیم

Posted by: Bushra Tasneem | فروری 24, 2018

پیغام صبح ۔ ۵۴

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته
جمعہ کے مقبول لمحات کی سعادت نصیب ہونا مبارک ہو

جمعہ مبارک بہت فضیلت والا دن ہے.اس دن سورہ الکہف کی تلاوت اور درود پاک کثرت سے پڑھنا واجب ہے. سورہ الکہف میں ایسی تعلیمات ہیں جس پہ عمل کرکے دجالی فتنوں کے اندھے راستوں سے نجات کے لئے نور حاصل ہوتا ہے.
سورہ الکہف میں مزکور باغ والے واقعہ (32 تا 42)سے یہ سبق ملتے ہیں.
مال و دولت، جاہ و اقتدار پہ فخر کرنا، اور اس کو اپنے زور بازو کا کمال سمجھنا،تکبر کرنا، دوسرے کو حقیر جاننا، قیامت سے انکار ،آخرت کی جواب دہی سے غفلت برتنا، اللہ سبحانه و تعالى کی ناراضی کا سبب بنتا ہے.اور نعمتوں کی بربادی کا سبب بنتا ہے.
اپنی یا دوسروں کی نعمتوں کو دیکھ کر” ماشاءاللہ لا حول ولا قوة إلا بالله ” کہنے کی تلقین کی گئی ہے. ..
اپنے دوست احباب متعلقین میں سے کسی کو غلطی کرتے دیکھیں تو اسے درست بات کی نشان دہی کرکے خیرخواہ ہونے کا ثبوت دیں. اگر کوئی اپنے آپ کو دوسروں سے برتر سمجھے تو تزکیر کی جائے کہ یہ الله القادر کی تقسیم ہے، وہ ان حالات کو بدل بهی سکتا ہے..
الله رب العزت کی طرف سے کوئی تنبیہ آئے تو انسان کو اس سے عبرت حاصل کرنی چاہئے غلطی کو سدھارنا چاہئے.اس واقعہ سے یہ علم بهی ہوتا ہے کہ تکبر، فخر و غرور، انکار آخرت بهی الله سے کفر اور شرک ہے. اور امت مسلمہ کے لیے مال و دولت، جاہ و اقتدار کی ہوس دجالی فتنہ ہے. 42 نمبر آیت اس واقعہ کا نچوڑ ہے کہ”کارسازی کا اختیار صرف اللہ رب العزت ہی کے لئے ہے، انعام وہی بہتر ہے جو وہ بخشے اور انجام وہی بخیر ہے جو وہ دکھائے….
اے دو جہاں کے مالک؛ ہم آپ سے التجا کرتے ہیں کہ ہمیں فخر و غرور،مال و دولت ،جاہ و اقتدار کی ہوس کے دجالی فتنے سے محفوظ رکھیو . ہمارے سارے معاملات درست فرمادیجئو، ہمیں اپنی رحمت کے سائے میں رکھیو آمین
طالب دعا؛ بشری تسنیم

Older Posts »

زمرے