Posted by: Bushra Tasneem | مارچ 21, 2017

اللہ کے نام کی تختی

پیوستہ رہ شجر سے امید بہار رکھ

بسم اللہ الرحمن الرحیم

کسی بهی منصوبے کا افتتاح کسی اعلی شخصیت سے کرانا پھر اس کی تشہیر اور اس شخصیت کے نام کی تختیاں لگانا عام سی بات ہوگئی ہے۔ منصوبے کی تکمیل کے لئے فنڈ لینے اوردیگر معاونت کا بهی یہ اچها طریقہ ہے۔ بے شک انسان ایک دوسرے کی معاونت  کے محتاج ہیں۔ مشورے اور راہنمائی کے لئے ایک دوسرے کی مدد درکار ہوتی ہے۔ الله رب العزت نے مسلم سوسائٹی کا ایسا اچها نظام ترتیب دیا ہے جس میں براہ راست الله تعالى سے معاونت پہلے طلب کی جاتی ہے تو الله تعالى کی ذات آسانیاں فراہم کرتی ہے۔ اورہر کام کی ابتدا ” بسم الله "سے کی جاتی ہے۔ وہ کام چهوٹا ہو یا بڑا الله کے نام کی” تختی”اس کام کی کامیابی کے امکانات بڑها دیتی ہے اور یہی "حسن نیت” ہے۔ جب کسی کام کی ابتدا میں ہی الله سبحانه وتعالى کا ذکر آگیا تو یقیناً اس ذات کی خوشنودی بهی شامل حال ہو گئی۔ جس کی خوشنودی درکار ہوتی ہے اس کی خوشی کا بهی علم ہونا ضروری ہے۔ اور یہ علم الله رب العزت نے اپنے انبیاء کے  ذریعے انسانوں تک پہنچایا۔

الله اس بات سے خوش ہوتا ہے کہ انسان اس کی رحمت سے فیضیاب ہوں۔ اس کی بتائے ہوئے نظام زندگی میں خلل نہ ڈالیں۔ ہر کام میں اپنے خالق سے معاونت اور ہدایت  طلب کریں اور اس پہ مکمل بهروسہ کرتے ہوئے ہدایات پہ عمل بهی کریں۔ جس  طرح ہر کام، وہ چهوٹا ہو یا بڑا، اس کی ابتدا بسم اللہ سے کرنا بنیادی تعلیمات میں شامل ہے؛ اسی طرح رب کائنات نے نماز کے ذریعے ملاقات کا اہتمام کرکے اپنے بندوں کو دعوت دی ہے کہ وہ اپنے متعین منصوبوں کی تکلمیل  کے لئے معاونت اور ان جانے مسائل کی پریشانیوں کے حل کے لئےسیدهی راه طلب کریں۔

منصوبہ کسی غریب کی کٹیا کا ہو یا بادشاہ کے محل کا، دونوں کا رب ایک ہی ہے۔ دونوں کے منصوبے اور مسائل اپنے اپنے مقام پہ یکساں اہمیت رکهتے ہیں۔ کوئی چها بڑی فروش ہو یا وزیر اعظم دونوں کی پریشانی اپنے اپنے مقام پہ برابر ہے وزیر اعظم کو اچهے مشیروں کی طلب ہے چها بڑی فروش کو مناسب پهل سبزی کی۔۔۔ اس غریب  کے گهر کی سلطنت کا انحصار اسی  پهل سبزی کے تر وتازہ ہونے اور بروقت مناسب نفع مل جانے پہ ہے، کسی بادشاہ کی سلطنت کا انحصار عقلمند مخلص ایمان دار مشیروں وزیروں پہ ہے۔ دونوں کا حرف مدعا ایک ہی ہے کہ میرا مسئلہ حل ہو، مدعا پورا ہو، اپنے منصب اور ذمہ داری سے احسن طریقہ سے عہدہ برآ ہو جاؤں۔ (اهدنا الصراط المستقیم۔۔۔) حرام و حلال کی تمیز اور ایمان داری کی شرائط دونوں افراد پہ یکسان لاگو ہوتی ہیں۔

سات  سال کی عمر سے یہ دعا (اهدنا الصراط المستقیم) عمر کے آخری سانس تک کرنا ہوتی ہے۔ حالات و واقعات کچھ بهی ہوں یہ دعا الله کے نبی بهی مانگتے ہیں اور امتی بهی۔ دونوں کے مراتب میں زمین آسمان کا فرق ہے مگر اپنےاپنے مقام و مرتبے کی ذمہ داری یہی تقاضا کرتی ہے کہ الله کا ہر بندہ اپنے رب سے ہی ہر معاملے میں ہدایات کا طلب گار ہو۔۔۔ قرآن پاک کی ابتدا اسی سے ہے، ہر نماز کی ہر رکعت  الفاتحہ سے شروع ہوتی ہے۔ محمود و ایاز کا ایک ہی حرف دعا ہے کہ ہمیں ہماری ذمہ داریوں سے عہدہ برآ ہونے کے لئے وسائل، استعانت، آسانیاں عطا فرما۔ وہ منصوبے جو زیرغور ہیں انکی تکمیل کی راہیں کهول دے، وہ مسائل جو ناقابل حل نظر آتے ہیں ان کا بہتر حل سجها دے۔

دن میں پانچ مرتبہ ہر رکعت میں اپنے دل کا حال سنا کر اپنے رب کی طرف سے حوصلے کی ردا طلب کی جاتی ہے۔ وہ ذات ہمارے مسائل کے حل کے لئے ہمارے درمیان سے ہی لوگوں کو منتخب کرکے ہمارے کام پہ لگا دے گی۔ مسائل کوئی بهی ہوں کیسے بهی ہوں ان کا حل الله سبحانه وتعالى سے ہی طلب کرنا ہے۔ جوتے کا تسمہ ٹوٹ جائے تو اس کو جوڑنے کے وسائل بهی اسی نے مہیا کرنے ہیں۔ دل ٹوٹ جائے تو اس کو بهی وہی ذات جوڑ سکتی ہے جس کے قبضہ قدرت میں انسانوں کے دل ییں۔ جو ہمارا مالک ہے وہی بدلے کے دن کا مالک ہے۔ اس دن وہ مہربان ذات کسی پہ ظلم نہ کرے گی آج بهی ہماری ضرورتوں کو پورا کرنے کا ذمہ دار وہی ہے جو مایوسی کے اندهیروں میں روشنی عطا کرتا ہے۔

ضرورت اس بات کی ہے کہ اس رب العالمین کی حمد وثنا کرتے ہوئے اس کے الرحمن الرحیم  ہونے کا مکمل احساس قلب و روح پہ طاری ہو۔  مالک یوم الدین کے حضور عاجزی سے اپنے مسئلے یا منصوبے پہ راہ مستقیم طلب کی جائے۔ جس پریشانی کا سامنا ہے اس کے حل کے لئے ہم وہ راستہ چاہتے ہیں جس کا انجام انعام والے لوگوں میں شامل ہونا ہے۔ ایسا کوئی حل نہیں چاہتے جس کا انجام  نافرمانوں یا گمراہوں کے ساتھ ہونے کا خدشہ ہو۔ یہ دعا انفرادی نہیں بلکہ اجتماعی کرنے کی ہدایت ہے۔ امام کے لئے مقتدی، نماز کے اجتماع میں شامل سب نمازی ایک دوسرے کے لئے۔۔۔ اہل وعیال اور پوری امت مسلمہ کا تصور کرکے اپنے رب کی خوشنودی حاصل کر سکتے ہیں۔ اس رب کو اپنے سارے بندے پیارے ہیں، جو اس کے بندوں کا خیال کرے گا الله تعالى اس کا خیال رکهے گا۔

جس کو یقین ہو کہ رب کائنات ہی اس کے جذبات و احساسات اور ضرورتوں کا بدرجہ اتم خیال رکهنے والا ہے وہ کبهی بهی رب سے مناجات رازونیاز سے غافل نہیں ہوسکتا۔ انسانوں کی یہ بہت بڑی غلطی ہے کہ وہ اپنی حاجات کے لئے اپنے جیسے کمزور انسانوں کے سامنے ہاتھ پهیلاتے پهرتے ہیں جب سارے دروازوں سے دهتکارے جاتے ہیں تو انہیں الله رب العلمین کی یاد آتی ہے۔  یہ رویہ الله سبحانه وتعالى کی شان میں گستاخی ہےاور شرک کا راستہ ہے۔

سچے مومن کا رویہ یہ ہوتا ہے کہ وہ سب سے پہلے اپنے منصوبے کی "منظوری” الله تعالی سے مشورہ کرکے لیتا ہے اسی سے وعدہ کرتا ہے کہ” تیری متعین کردہ حدود سے تجاوز نہیں کرے گا خالص تیری بندگی بجا لائےگا۔ یوم الدین کو اپنے اعمال کا جواب دہ ہونے کا احساس ہے اسی لئے اپنی قابلیتوں صلاحیتوں کو صراط مستقیم پہ قائم  رکهنے کے لئے آپ سے استعانت  کی التجا ہے۔” انسان کمزور ہے نفس کی شر انگیزیوں اورشیطان کے وسوسوں کا مقابلہ الله تعالى کی استعانت کے بغیر ممکن نہیں۔ پوری زندگی کا کوئی بڑا منصوبہ، مسئلہ ہو یا دو نمازوں کے درمیان کےمختصر وقت میں کوئی پریشانی لاحق ہو جائے، الله تعالى سے ہی عرض کرنا زیب دیتا ہے۔

والدین، بهائی بہن، دوست احباب سب کے ساتھ رشتے بعد میں ہیں، سب سے پہلا رشتہ الله اور بندے کا ہے۔ جو الله رب العزت کے ساتھ اس رشتہ کو نبها ئے گا الله اسے اپنے ہاں مکرم بنائے گا۔ اسی اکرام سے نوازنے کے لئے الله تعالى نے اپنے بندوں سے دن میں پانچ بار ملاقات کی دعوت دی ہے۔ اتصالات عرب کی ایک ٹیلی کمیونیکیشن کمپنی ہے جو لوگوں کے درمیان رابطے کا کام کرتی ہے۔ صلوة الله اور بندے کے درمیان رابطے کا ذریعہ ہے۔۔۔ کیا واقعی ہم دن میں پانچ بار الله رب العالمين سے رابطہ کرکے اپنے مسائل کا حل پوچھ پاتے ہیں؟ یا الله تعالى کے حضور کهڑے ہو کر بهی انسانوں کے در پہ جانے اور ان کےنام کی تختیاں لگوانے کی فکر میں مبتلا رہتے ہیں؟

اللهم اهدنا الصراط المستقيم۔۔۔   اللهم اهدنا الصراط المستقيم

تحریر۔۔۔    ڈاکٹر بشری تسنیم www.bushratasneem.wordpress.com

Posted by: Bushra Tasneem | مارچ 18, 2017

حدیث نمبر 40

 بسم الله الرحمن الرحيم

الحمدلله رب العالمين والصلاة والسلام على سيدنا محمد رحمۃ للعالمین و خاتم النبیین۔۔۔

مشکوة المصباح کے حصہ کتاب الصوم میں بیہقی کے حوالے سے عبدالله بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنه سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: "جنت رمضان کے لئے سال کے آغاز سےآنے والے سال تک (یعنی یکم شوال سے شعبان کے آخری دن تک)سجائی جاتی ہے۔”

اس  طویل حدیث مبارکہ  کے پہلے حصہ سے معلوم ہوتا ہے کہ روزہ داروں کے لئے جنت سجانے کا کام عید کے دن سے ہی دوبارہ شروع کر دیا جاتا ہے۔ الله تعالی نے قرآن پاک میں متعدد جگہ پہ یہ فرمایا ہے کہ مومنوں کے لیے جنتیں باغات ہیں۔ اگر ہر رمضان المبارک کے بعد ایک جنت ملے تو جتنے رمضان المبارک زندگی میں گزارے اتنی جنتیں حاصل ہو سکتی ہیں۔ دنیا میں وہ شخص بہت دولت مند اور خوش قسمت سمجها جاتا ہے جو پے درپے بہت شاندار پراپرٹی خریدنے کی استطاعت رکهتا ہو۔۔۔ دنیا اس پہ رشک کرتی ہے۔ مالدار فرد کو جب نئی سے نئی پراپرٹی بنانے کی دهن لگ جاتی ہے تو وہ اور زیادہ  کمانے کی کوشش کرتا ہے۔ پراپرٹی کی جگہ دیکھ کر رکهتا ہے کہ اگلی بار یہ پلاٹ لینا ہے اور اس پہ اس قسم کا محل بنانا ہے یا فارم ہاؤس بنانا ہے۔ سارے نقشے ذہن میں ہوتے ہیں جو بهی خریدا جائے پہلے سے اچها ہو۔۔۔ ایسا ہو کہ سب دنگ رہ جائیں۔۔۔

دولت مند انسان دنیا میں کتنے گهر لے گا؟ کتنی دولت اور پراپرٹی کا مالک بن جائے گا؟ اگر ساری  دنیا کی بادشاہت بهی حاصل کرلے پهر بهی وہ اپنے مال و دولت سے کماحقہ فائدہ اٹهائے بغیر موت سے ہمکنار ہوگا اور سب کچھ دنیا میں ہی چهوڑ جائے گا۔ ہر انسان کی اپنی سدا رہنے والی دولت وہ ہے جو مرنے کے بعد کام آئے گی۔۔۔ پراپرٹی، وسیع بنگلے، باغات تو اپنے وہ ہیں جو مرنے کے بعد ملیں گے۔۔۔ ان سدا رہنے والے باغات کو اس ذات نے تیار کیا ہے جس کو زوال نہیں۔۔۔

سارا سال جو جنت سجائی گئی ہو وہ کس شان کی ہوگی! اس کا ادراک جن کو ہوتا ہے وہ اپنی اس جنت کو آنکهوں سے اوجهل نہیں ہونے دیتے۔ ان کا دهیان اسی کی طرف لگا رہتا ہے۔ خوشی ہو یا غم وہ اس جنت کے حصول کا مشن نہیں بهولتے۔ اپنی کمائی ہوئی دولت کا زیادہ حصہ، اپنی عمر کا زیادہ وقت اسی پراپرٹی کے لئے وقف کرتے ہیں۔ وہ جنت جس کے دروازے رمضان المبارک کا چاند نظر آتے ہی کهول دئے جاتے ہیں۔۔۔ پورا رمضان کا مہینہ جنت کی اس پراپرٹی کے دروازے کهولے والی چابی ملنے(قرآن) کی خوشی منائی جاتی ہے۔ ہر رات کو تراویح کی شکل میں شکرانے کی تقریب منعقد ہوتی ہے۔۔۔ افطار کے وقت اسی جنت کے کهانوں کی خوشبو  کے تصور سے روح سرشار ہو جاتی ہے۔۔۔  پورا مہینہ اس عظیم الشان کامیابی کی خوشی منانے میں گزر جاتا ہے جو مومنوں نے سارا سال اپنے نیک اعمال اور قرآن پہ عمل  کی بدولت حاصل کی ہوتی ہے۔۔۔

جس جنت کے مومنوں کے لئے سجائے جانے کا وعدہ کیا گیا ہے وہ دراصل مومن خود ہی سجا رہے ہوتے ہیں۔ ہر نیک عمل جو مومن سارا سال کرتے ہیں وہی تو ان کی جنت کی آرائش ہے۔۔۔ وہ ذکر الله ہی تو ہے جو جنت کے درخت اور باغ بن جاتے ہیں۔۔۔ غریبوں کے لئے روٹی کپڑے کا انتظام کیا تو اسی کے بدلے میں جنت کا لباس اور کهانا ملے گا۔ کسی کو ٹهکانہ دیا وہی جنت کا کوئی محل بن جائے گا۔ کسی کی پریشانی دور کی قیامت کی پریشانیوں سے نجات مل جائے گی۔۔۔ غرض دنیا میں جوعمل آخرت کے لئے کیا جائے گا وہاں اس کا بدل مل جائے گا اپنے اندازوں سے زیادہ بڑھ کر اور شاندار ملے گا۔۔۔ جنت کو الله کے حکم سے سجاتے تو فرشتے ہی ہیں مگر جو کچھ مومن دنیا سے بهیجتے ہیں اسی سے جنت سجائی جاتی ہے۔

ہم اپنی اس جنت کی تزئین و آرائش کا تصور کریں جو ہم نے گزشتہ سارا سال کی۔ ہم نے اپنے لئے کیسے اور کتنے لباس آرڈر کئے؟ کس قسم کے کهانے تیار کرائے، اپنی جنت کے درختوں پہ  کیسے پهل لگے ہیں؟ ان چشموں آبشاروں کا کیا رنگ ڈهنگ ہے جن کو ہم نے اپنی آنکهوں سے ندامت کے آنسو بہا کر روان رکهنا تها۔ ان مشروبات کی بهی خبر لیں جن کو ہم نے پیاسوں کو سیراب کرکے تیار کرانا تها۔ غرض یہ کہ رمضان المبارک تو نیکیوں کا موسم بہار ہے۔۔۔ یعنی نیکیاں تو سارا سال کی تهیں اب اس موسم میں ان کے ثمربار ہونے کا وقت آگیا ہے۔ ثمر اسی درخت پہ آتا ہے جس کو پچهلے موسم میں بویا گیا ہو اور اس کی دیکھ بهال بهی کی گئی ہو۔ ہرکسی کی نیکیوں کے درخت اپنے پهل سے گواہی دیں گے اور یہی مومن کی جنت ہے جس کا دروازہ کهلنے میں اب کچھ دیر نہیں۔ گزشتہ سال کی کارکردگی اور اگلے موسم کی فصل اتارنے کو بیج بونے کا وقت آگیا ہے۔۔۔ کامیاب وہی ہے جو وقت پہ فصل اتارے اور پهر وقت پہ نئے بیج بو کر اگلے سال کا باغ تیار کرنے میں غفلت نہ کرے۔ کسی نے پراپرٹی بنانے کا شوق پالنا ہے تو ان جنتوں کو پانے کا شوق پالے۔۔۔

ان الله الشتری من المومنین أنفسهم و أموالهم بأن لهم الجنة۔۔۔

یہ ایسی پراپرٹی ہے کہ فلیتنافس المتنافسون۔۔۔

رب ابن لنا بیتا فی الجنة۔۔۔ اللهم إنا نسئلک الجنت الفردوس الأعلى بغیر حساب وما قرب الیها من قول أو عمل۔ آمین

Posted by: Bushra Tasneem | مارچ 11, 2017

حدیث نمبر 39 

بسم الله الرحمن الرحيم

الحمدلله رب العالمين والصلاة والسلام على سيدنا محمد رحمۃ للعالمین و خاتم النبیین والمرسلین

السلسلة الصحیحہ حدیث نمبر2598 میں سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ بحرین سے رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں کچھ مہمان آئے انہوں نے رسول اللہ ﷺ کو وضو کرتے دیکها تو پانی کی طرف لپکے اور وضو میں استعمال شدہ پانی چہروں، سروں اور سینوں پہ ملنے لگے۔۔۔ ان کی اس حرکت کو دیکھ کر آپ نے ان سے پوچها کہ تم ایسا کیوں کر رہے ہو؟ تو انہوں نے جواب دیا کہ آپ سے محبت کے باعث اور اس امید پہ کہ ایسا کرنے سے الله تعالى بهی ہم سے محبت کرے گا۔ انکی طرف سے اس بات کے جواب میں رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

"اگر تم چاہتے ہو کہ الله سبحانه وتعالى اور اس کے رسول تم سے محبت کریں تو تین خوبیوں کو اپنی عادت بنا لو اور اس پہ قائم رہو

سچی بات

ادائے امانت

پڑوسی سے حسن سلوک”

اس حدیث مبارکہ میں مومنوں کو ایک کارگر نسخہ بتایا گیا ہے جس کے ذریعے وہ اپنی زندگی کا مقصد حاصل کر سکتے ہیں، کامیابی کا سب سے اعلیٰ مرتبہ حاصل کر سکتے ہیں۔ یقیناً سب مسلمان الله تعالى اور اس کے رسول کی محبت حاصل کرنے لئے نیکی کرنے کی کوشش کرتے ہیں اور سب کی یہ تمنا ہوتی ہے کہ الله اور اس کا رسول ہم سے را ضی رہے۔۔۔

اس واقعہ میں تین باتیں سامنے آتی ہیں

1۔ لوگوں کی طرف سے الله اور اس کے رسول کی محبت حاصل کرنے کے لئے طرز عمل کا اظہار

2۔ رسول اللہ ﷺ کا اس طرز عمل پہ رویہ

3۔ رسول اللہ ﷺ کی طرف سے محبت حاصل کرنے کے لئے کسی اور طرزعمل کی طرف راہنمائی

اپنے  راہنما و راہبر مشفق و مہربان هادی اور دیگر بزرگ رشتوں سے محبت فطری ہے جس سے محبت ہو اس کی ہر شے محبوب ہوتی ہے۔ لوگوں کا یہ طرز عمل فطری تها۔ نبی اکرم صل اللہ علیہ کا اس طرز عمل پہ  جواباً رویہ بهی بالکل  فطری تها۔ انسانی جذبات کی قدر  کرنا ہی رحمة للعالمین کی شان کے مطابق تها۔۔۔ اس لئے آپ نے استعمال شدہ پانی کو چہروں سینوں اور سروں پہ ملنے پہ سرزنش نہیں کی اور نہ ہی  حوصلہ افزائی کی، نہ شاباش دی اور نہ ہی دیگر صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کو اس کام کی طرف متوجہ کیا کہ محبت کا یہ طریقہ تم بهی سیکھ لو۔۔۔ اس پہ حضورﷺ کا رویہ بالکل نارمل رہتا ہے کہ کسی کی دل شکنی بهی نہ ہو اور کوئی اس بات کو اہم بهی نہ سمجهے۔۔۔ جواہم بات تهی وہ اس قدر پیارے انداز میں ذہن نشین کرا دی گئی کہ ان سے پہلے سوال کیا اور جو کچھ أن کو مطلوب تها اس کو حاصل کرنے کا ڈهنگ بتایا کہ زیادہ کارآمد، فائدہ مند یہ طریقہ ہے۔

ان تین عادتوں کو اپنانے کے بعد اگر کوئی تبرکاً اس طرح کا طرز عمل اختیار کرے تو یہ ناجائز بهی نہیں ہے۔ مگر صرف تبرکات کے ذریعے محبت حاصل کر لینا ممکن بهی نہیں ہے۔ عادت اس وقت بنتی ہے جب تزکیہ نفس کا عمل کر کے کسی علم کوعمل میں اس طرح لے آیا جائے کہ اس کام کے لئے نفس پہ جبر نہ کرنا پڑے۔ سچائی کی عادت ہر پہلو سے انسان کو صراط مستقیم پہ رکهتی ہے۔۔۔ ادائے امانت دین کی بنیاد اور اس کی روح ہے۔ ساری زندگی کا ہر لمحہ کسی نہ کسی امانت کی ادائگی سے منسلک ہے۔۔۔ پڑوسی وہ تعلق دار ہے جس کا گهر ہمارے گهر کی دیوار سے جڑا ہے تو ہمارے اخلاقی اقدار کی دیوار بهی ایک ہی ہے۔

آئیے اس رمضان المبارک میں الله اور اس کے رسول کی محبت حاصل کرنے کا وہی طرز عمل اختیار کریں جو محبوب نے خود بتایا ہے اس لئے کہ ہم  الله اور اس کے رسول کی محبت کے طلبگار ہیں۔ ہم میں عوام بهی ہیں اور عوام کی راہنمائی کرنے والے بهی، محبت دینے اور لینے کے جو پیمانے ہمیں اس حدیث میں ملتے ہیں ان پہ دونوں کو عمل کرنا ہوگا۔۔۔ زندگی کے ادوار میں ہم کہیں رشتے میں چهوٹے ہیں توکہیں بڑے ہیں، کبهی راہبر ہیں تو کبهی پیرو کار ہیں۔۔۔ عقیدت و محبت لینے اور دینے والے  کس طرز عمل کو چاہتے ہیں اورکس طرف راہنمائی کرتے ہیں، یہی ہمیں سیکهنا ہے۔ آسان اور ظاہری طرز عمل کا اظہار اس وقت زیب دیتا ہے جب ٹهوس عملی اطاعت بهی موجود ہو۔ جب اطاعت گزاری کا رویہ عادت بن جاتا ہے تو تبرکات حاصل کرنے والا رویہ بهی قابل قبول ہوجاتا ہے اور محبت کو مزید حسن بخشتا ہے۔۔۔ "قل ان کنتم تحبون الله فاتبعوني”  کی شرط کبهی ختم نہیں ہو سکتی۔

ہم سب کا الله اور اس کے رسولﷺ کی نظر میں ویسا ہی مقام ہے جیسا طریقہ، طرز عمل محبت حاصل کرنے کے لئے ہم نے اختیار کر رکها ہے۔

اللهم إنا نسئلک حبک وحب رسولک وحب من یحب والعمل الذی یبلغنا الی حبک آمین

Posted by: Bushra Tasneem | مارچ 8, 2017

حدیث نمبر 38 

بسم الله الرحمن الرحيم

الحمدلله رب العالمين والصلاة والسلام على سيدنا محمد رحمۃ للعالمین و خاتم المرسلین

مشکوة المصباح کتاب الصوم میں بخاری شریف کے حوالے سے سیدنا أبو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنه سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:” اگر کسی شخص نے جهوٹ بولنا اور جهوٹ پہ عمل کرنا نہ چهوڑا تو الله سبحانه وتعالى کو اس بات کی ضرورت نہیں ہےکہ وہ کهانا پینا چهوڑ دے۔”

اس حدیث مبارکہ میں دو با توں کی مذمت کی گئی ہے۔ جهوٹ بولنا اور جهوٹ پہ عمل کرنا۔ سب جهوٹ جیسی برائی سے واقف ہیں۔ پوری انسانیت اس بات پہ متفق ہے کہ جهوٹ ایک بہت بڑاعیب ہے۔ ساری دنیا اس برائی کے خلاف ہے۔ سب یہ چاہتے ہیں کہ ان سے جهوٹ نہ بولا جائے۔ سب کہتے ہیں کہ ہمیں جهوٹے لوگوں سے نفرت ہے۔ مگر المیہ یہی ہے کہ ہر شخص نے جهوٹ کا لبادہ اوڑھ رکها ہے۔ جهوٹ پہ عمل ایک الگ عیب ہے۔ غلط بیانی جهوٹ ہے تو غلط کاری جهوٹ پہ عمل ہے۔۔۔

"حق” سچ ہے اور”باطل” جهوٹ ہے۔۔۔ الله”الحق” ہے اس کی اطاعت حق ہے، سچ ہے۔ الله کی فرماں برداری سچائی ہے سچ پہ عمل ہے۔ انسان اپنے سارے اعضاء سے سچ یا جهوٹ پہ عمل کرتا ہے۔ اگر آنکهوں کانوں اور دل کو الحق کا بندہ بنایا تو یہ سچ پہ عمل ہے۔ اگر اپنے جسم کو الحق کی نافرمانی میں لگایا تو یہ باطل کی اطاعت ہے یعنی جهوٹ پہ عمل ہے، جهوٹی زندگی ہے۔۔۔ روزے میں اگرالله کی فرماں برداری نہیں کی، صرف پیٹ کو کهانے پینے سے باز رکها، تو الله کو ایسا روزہ نہ مطلوب ہے نہ قبول ہے۔۔۔ الله تعالیٰ نے اپنے بندوں سے فرما یا کہ روزہ میرے لئے ہے اور اس کی جزا میں خود ہوں۔۔۔ جو ذات الحق ہو وہ حق ہی قبول کرے گی باطل نہیں۔

حقوق الله اور حقوق العباد کی ادائیگی ایک حق بات ہے ان حقوق سے روگردانی گناہ ہے۔ ہر گناہ جهوٹی زندگی گزارنا ہے، سچی زندگی وہی ہے جس کا انجام کار کامیاب ہو۔۔۔ جس نے زندگی عطا کی ہے وہی جانتا ہے زندگی کا سب سے بڑا سچ کیا ہے اور جهوٹ کیا ہے۔ سب سے بڑا سچ  لا الہ الا اللہ ہے اور اس کے مطابق زندگی گزارنا سب سے بڑی سچائی ہے۔ اوراس کلمے سے رو گردانی سب سے بڑا جهوٹ ہے اور ایسی زندگی جهوٹ پہ عمل ہے۔ مشرک، منافق، کافر، خائن، فاسق کی زندگی جهوٹ پہ عمل ہے.غرض الله تعالى کی ہر نافرمانی جهوٹ پہ عمل ہے۔ روزہ جیسی عظیم عبادت اگر جهوٹ اور جهوٹے عمل سے منسلک ہو تو وہ رب اس جهوٹ کے پلندے کو کیسے قبول کرے گا۔ الله تعالى پاک ہے، الحق ہے،  پاکیزہ اعمال اور سچے عمل کو پسند کرتا ہے۔ شهد کی بوتل میں اگر زہر بهرا ہو تو بوتل پہ شهد لکهنے سے وہ شهد نہیں بن سکتا۔ روزے دار کا باطن بهی روزے سے ہے تو اس کی جزائے خیر الله رب العزت کی ذات ہے۔۔۔ سبحان الله۔

ہم تو مائل بہ کرم ہیں کوئی سائل ہی نہیں

اللهم ربنا لا تزغ قلوبنا بعد إذ هدیتنا وهب لنا من لدنک رحمہ۔ انک انت الوهاب۔

اللهم اعنا علی ذکرک و شکرک و حسن عبادتک  آمین

Posted by: Bushra Tasneem | مارچ 4, 2017

حدیث نمبر 37

بسم الله الرحمن الرحيم

الحمدلله رب العالمين والصلاة والسلام على سيدنا محمد رحمۃ للعالمین و خاتم النبیین

مشکوة المصباح کے حصہ” کتاب الصوم” میں بیہقی اور محی السنة کے حوالے سے زید بن خالد رضی اللہ تعالیٰ عنه روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:”جو شخص کسی روزہ دار کا روزہ کهلوائے یا کسی مجاہد/ غازی  کے لئے سامان جہاد فراہم کرکے دے تو اس کو ویسا ہی اجر ملے گا جیسا کہ اس روزہ دار کو روزہ رکهنے اور غازی کو جہاد کرنے کا ملے گا۔”

اسلام ایسا بہترین طریقۂ زندگی ہے کہ اس میں نیکی کا کوئی موقع ضائع نہیں ہونے دیا جاتا۔ رائی کے دانے یا ذرہ برابر بهی کسی نے نیک کام میں حصہ ڈالا ہو تو وہ اس کے لئے نجات کا باعث بن سکتا ہے۔ نیک کام کی ابتدا کرنے والے اور تعاون کرنے والے دونوں کو بہتر اجر سے مالا مال کر دیا جائےگا۔ اور سب کو پورا اجر ملے گا کسی کے اجر میں کمی نہ کی جائے گی۔۔۔

روزہ اور الله کی راہ میں جہاد عظیم ترین عبادتیں ہیں۔ دونوں الله کا قرب اور اس کی رضا حاصل کرنے کا ذریعہ ہیں۔ نیکی کی طرف راہنمائی کرنے والا نیکی کرنے والے کی مانند ہے۔۔۔

روزہ دار کا روزہ کهلوا دینا بظاہر معمولی سی بات لگتی ہے مگر اس کا اجر بے پناہ ہے۔ مؤمن کی ساری زندگی یہی کوشش ہوتی ہے کہ وہ جہاں سے بهی موقع ملے نیکی تک پہنچ جائے۔ رمضان المبارک میں اس کی تمنا اور بهی بڑھ جاتی ہے۔۔۔

مؤمن نیکیاں جمع کرنے کے سلسلے میں بهی دانائی سے کام لیتا ہے۔۔۔ ایک کام کا ثواب حاصل کرنے کے لئے دو ناپسندیدہ کام کرنے پڑتے ہیں تو وہ پرکھ لیتا ہے کیا زیادہ درست ہے۔ اگر نفل کام کرنے کے لئے فرض سے غفلت ہو جاتی ہے تو نفل کی کیا اہمیت رہ جائے گی؟ الله تعالى نے ہرعبادت اور حقوق کی ادائگی میں درجہ بندی کی ہے۔ جب فرض عبادت یا کام کا وقت ہے تو وہی قبول ہوگا، دن کو کرنے والے اہم کام دن کو ہی کارآمد ہیں۔ مؤمن ہر کام میں فرض و نفل کی حکمت سے غافل نہیں ہوتا۔۔۔

انسان کو وہ کام اور ہدایات زیادہ بهاتی ہیں اور ان پہ عمل کرنا آسان لگتا ہے جن سے اپنا مزاج اور نفس خوش ہوتا ہو۔ اس میں انسان اس قدر مگن ہو جاتا ہے کہ اپنے اصل ٹارگٹ کو پس پشت ڈال دیتا ہے۔ مگر مؤمن کی نگاہ بصیرت کی نگاہ ہوتی ہے۔

آئیے ہم اپنی مومنانہ بصیرت کا جائزہ لیں کہ رمضان المبارک میں دوسرے روزہ داروں کے ثواب میں حصہ دار بننے کے لئے ہم نے جو روزے کهلوائے ہیں ان سے ہم  کیا قیمتی چیزیں گم کر بیٹهتے ہیں؟

روزہ تو کهجور کا معمولی سا پہلا ٹکڑا منہ میں رکهتے ہی کهل جاتا ہے۔ ثواب کے حقدار تو ہم اسی وقت ہوگئے۔ مگر باقی دستر خوان پر جو بهی کهانے رکهے گئے اور ان کی تیاری میں جو وقت لگایا گیا، جو مشقت اٹهائی گئی، نمازوں کی، دوسرے ذکر اذکار کی اگر قربانی دی گئی تو وہ کس کهاتے میں لکهی جائے گی؟

سادہ مختصر سا کهانا، باعث ثواب ہے، اس دستر خوان کی نسبت جس پہ اسراف ہو، فرائض سے غفلت ہو جائے، نام ونمود کی خواہش ہو، دستر خوان پہ کهانوں کی کثرت کا مقابلہ ہو، صرف پیٹ بهرے لوگوں کی دعوت ہو، غریبوں کا خیال نہ ہو۔۔۔

روزے اور روزے دار کے ہر عمل کا مقصد متقی بننا ہے۔

روزے کا اصل مقصد (تقوی کا حصول ) اس وقت بهی پورا نہیں ہوتا جب افطاری کے وقت سارا دن بهوکا پیاسا رہنے کی”سزا” پیٹ کو حد سے زیادہ کھانے کی صورت میں بهگتنی پڑتی ہے۔ روحانی احساسات کی کوئی ایک جهلک بهی افطاری کے بعد روح کو میسر نہیں ہوتی۔ اس کیفیت میں کلام الله روح کو کیسے شاداب کرے گا؟ نڈهال جسم، غنودگی کی حالت میں، کس کے رونگٹے کهڑے ہوسکتے ہیں؟ "ولقد يسرنا القرآن لذكر فهل من مدكر” کس کے دل پہ دستک دے گا؟

رمضان المبارک  کی تیاری میں سب سے پہلا احساس جو ہمیں ہوتا ہے اور جس حدیث پہ ہمارا پختہ یقین ہوتا ہے وہ یہ کہ” رمضان المبارک میں مومنوں کا رزق بڑها دیا جاتا ہے”۔ اس حدیث پہ عمل کرنے کے لئے ہم جت جاتے ہیں اور انواع و اقسام کے پکوان کی فہرست ہمارے "ایمان بر طعام” کو تقویت دیتی ہے اور ہم وہ کچھ کهانے کی بهر پور کوشش کرتے ہیں جو سارا سال بهی کهانے کا پروگرام نہ بنایا ہو۔

آخر کیا وجہ ہے کہ رزق کی فراوانی سے ہم "روحانی رزق "کی فراوانی مراد کیوں نہیں لیتے؟ کیا ہی اچها ہو اگر ہم روحانی رزق کو بڑها نے کی فہرستیں تیار کریں اور پیٹ کو روزہ رکهنے کی” سزا” دینے کی  بجائے روح کے رزق کی فراوانی کی طرف توجہ کریں۔ جس کا اہتمام اس ماہ مبارک میں کیا گیا ہے۔۔۔ وہ "الله کا دستر خوان” ہے۔ اس سے روح کی طلب پوری کریں۔ اور سارے سال کی کسر پوری کریں۔۔۔ اس کی صحت بحال رکهنے کو اگلے گیارہ ماہ کا توشہ بهی تیار کریں کہ اس ماہ مبارک میں مومنوں کا رزق  بڑها دیا جاتا ہے اور مؤمن تو قرآن سے پہچانا جاتا ہے۔۔۔ اور اپنے دوست احباب اعزہ و اقرباء کو بهی "الله کے دستر خوان” کے لئے دعوتیں دیں۔۔۔

شهر رمضان الذی أنزل فیه القرآن

رمضان المبارك پیاسی روح کی سیرابی کا مہینہ ہے اور اس کی شادابی لیلة القدر کی تلاش ہے۔ رحمت، مغفرت اور آگ سے رہائی کا پروانہ مل جانا کامیابی کا عنوان ہے۔۔۔

اللهم إنا نسئلک علما نافعا و رزقا واسعا من القرآن الكريم و عملا متقبلا۔ آمین

Posted by: Bushra Tasneem | مارچ 2, 2017

حدیث نمبر 36 

بسم الله الرحمن الرحيم

الحمد لله رب العالمين والصلاة والسلام على سيدنا محمد رحمۃ للعالمین و خاتم النبیین

مشکوة المصباح کے حصہ کتاب الصوم میں ابوداود، ترمزی، نسائی، ابن ماجہ کے حوالے سے انسب کعبی رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:”الله تعالیٰ نے مسافر سے آدهی نماز کم کر دی ہےاور اسے روزہ چهوڑنے کی بهی اجازت ہے۔ اسی طرح دودھ پلانے والی اور حاملہ عورت کو بهی روزہ چهوڑنے کی اجازت ہے۔”

اسلام دین فطرت ہے اور الله اپنے بندوں پہ مہربان ہے، سارے احکاماتِ الہی بندوں کی فطرت سے مطابقت رکهتے ہیں۔ ناگزیرحالات میں ان احکامات میں نرمی رکهی گئی ہے اس لئے کہ الله رب العزت بندوں کی استطاعت سے بڑھ کر کو ئی بوجھ نہیں ڈالتا اور وہ اپنے بندوں پہ ہرگز ظلم کرنے والا نہیں ہے۔

بیمار، مسافر اور مجبور کے لئے نماز اور روزہ میں آسانی اور رخصت رکهی گئی ہے۔

روزہ کا اصل مقصد تقوی کی نشوونما ہے اور تقوی دراصل الله کے احکامات کی پیروی کرنا ہے۔ کهانے پینے کے مخصوص اوقات کی پابندی کرنا تقوی ہے۔ جب کہا کهاو تو کها لیا جب کہا رک جاؤ تو رک گئے۔۔۔ اب اگر کسی مجبوری کی وجہ سے روزہ رکهنا مشکل ہے تو رخصت سے فائدہ اٹهاو۔۔۔

روزے کا اصل مقصد الله رب العزت کی اطاعت و فرماں برداری کا عملی نمونہ بن کے دکهانا ہے یعنی”تقوی”اختیار کرنا ہے۔ روزے کا مقصد یہ نہیں کہ انسان خود کو تکلیف میں مبتلا کرکے راہبوں کا مرتبہ پانے کی کوشش کرے یا ایسے مذاہب کے سادهووں کی پیروی کرے جن کے ہاں فطری انسانی ضرورتوں کو تج دینا نیکی ہے اور خود کو زیادہ سے زیادہ جسمانی مصیبت میں مبتلا کرنا اعلی درجے کی بزرگانہ شان حاصل کرنے کا ذریعہ ہے۔۔۔

اسلام دین فطرت ہے۔ انسان کی فلاح اس کا اصول ہے۔۔۔ اس فلاح کے حصول میں کوئی تنگی نہیں رکهی گئی، احکامات و فرائض میں یسر اور آسانی حالات واقعات، صحت تندرستی، عمر، سفر وحضر کے مطابق عطا کی گئی ہے۔ اس لئے کہ رب العالمین اپنے بندوں پہ مہربان ہے، اس کی رحمت ہر شے پہ چهائی ہوئی ہے۔

یہی وجہ ہےکہ روزے نہ رکھ سکنے والوں کو سہولت دی گئی ہے۔۔۔ اب اگر کوئی اس سہولت کو اس رحمت الہی کو پس پشت ڈال کر   خود کو اذیت میں مبتلا کرتا ہے۔ اوراپنے متعلقین کو بهی پریشانی میں مبتلا کرتا ہے۔۔۔ تو وہ اللہ سبحانہ و تعالٰی کی شفقت، نرمی اور رحمت سے منہ موڑتا ہے۔۔۔ کچھ بیمار بوڑھے لوگ شدید تکلیف اور کمزوی کے باوجود روزہ رکهنے پہ مصر ہوتے ہیں اور دل میں بہت معصومانہ سی خواہش مچل رہی ہوتی ہے کہ اگرموت آنی ہے تو روزے کی حالت میں آئے۔۔۔ ہرمومن کی دلی خواہش یہی ہوگی مگرالله سبحانه وتعالى کی محبت شفقت ہی مطلوب ہےتواس وقت الرحمان الرحیم ذات یہی توعطا کررہی ہے۔ اس مہربانی کو قبول کر لینا ہی اطاعت اور فرماں برداری ہے۔۔۔ موت کی تیاری اس طرح خود کو اذیت دے کرنہیں، بلکہ اطاعت و فرماں برداری کرکے کرنا زیادہ پسندیدہ ہے۔

کہیں ایسا نہ ہو کہ الله تعالی کی طرف سے عطا کردہ سہولت سے فائدہ نہ اٹها نے پہ ناشکر گزاری کا لیبل لگ جائے۔۔۔ کچھ لوگ الله تعالى کی عطا کردہ نرمی سے نا جائز فائدہ اٹها تے ہیں وہ بهی تقوی سے دور ہیں۔ اور جو نرمی، شفقت اور محبت کو قبول نہیں کرتے وہ بهی متقی کا درجہ نہیں پاسکتے۔ عبادت کا مقصد خود کو جان بوجھ کر اذیت میں مبتلا کرنا، اپنی بیماری کو بڑهاوا دے کرموت کی تمنا کرنا نہیں ہے۔۔۔ ایسے طرزعمل کو رحمت للعالمین صل اللہ علیہ و سلم نے پسند نہیں فرمایا۔۔۔ الله تعالى اور اس کے رسول صل اللہ علیہ و سلم کی طرف سے ہر قسم کے حالات کے مطابق دی گئی ہدایات پہ عمل کرنا ہی اصل عبادت ہے اور یہی تقوی ہے۔

اللهم إنا نسئلک الهدی واتقی والعفاف والغنى

اللهم إنا نسئلک ایمانا کاملا و یقینا صادقاً حتی نعلم أنه لا یصیبنا إلا ما کتبت لنا و رضا بما قسمت لنا انک علی کل شئی قدیر آمین

Posted by: Bushra Tasneem | فروری 25, 2017

حدیث نمبر 35 

بسم الله الرحمن الرحيم

الحمد لله رب العالمين والصلاة والسلام على سيدنا محمد رحمۃ للعالمین و خاتم النبیین

کتاب الصوم از مشکوة المصباح میں بیہقی سے عبدالله بن عمرسے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :”روزہ اور قرآن بندے کے شفیع ہیں۔ روزہ سفارش کرتا ہے کہ اےرب! میں نے اس کو دن بهر کهانے پینے اور شهوات سے روکے رکها، اس لئے میری سفارش اس کے حق میں قبول فرما۔۔۔ اور قرآن کہتا ہے کہ اے رب میں نے اسے رات کونیند سے روکے رکها، اس لئے اس کے حق میں میری سفارش قبول فرما۔۔۔ پس دونوں کی شفاعت قبول فرما لی جائے گی۔”

دن اور رات کا یہ حسن عمل خالص رضائے الٰہی کے لئے ہوگا تو یہ عبادتیں خود گواہی بن جائیں گی۔ قیامت کے دن جب کوئی کسی کے کام نہ آئے گا تو اپنی عبادات مومن کو حوصلہ دیں گی، اس کے لئے اطمینان کا باعث ہوں گی۔ اورانہی مومنوں کے لئے نبی کریم صل اللہ علیہ و سلم بهی سفارش کریں گے کہ ان عبادتوں میں جو کسر رہ گئی جو کوتاہی ہو گئی ہے وہ معاف کر دی جائے۔۔۔

لیکن اپنے پاس کچھ کام تو ایسا ہونا چاہئے جو سفارش کا حقدار بنا سکے۔ سفارش کا مطلب ہی یہ ہے کہ کسی کام میں جو کسر رہ گئی ہے اس سے صرف نظر کرانا، پاس ہونے کے لئے چند نمبروں کی کسر رہ گئی ہے، ممتحن سے گزارش کرنا کہ رعایتی پاس کر دیا جائے۔ ہم مسلمان اقراری مجرم ہیں کہ "عادی مستقل گنہگار ہیں، ڈوبے ہوئے غفلت میں ہیں، جو بهی ہیں، آخری نبی ہیں نا شفیع المذنبین۔۔۔ نیکیوں میں جو کمی کوتاہی رہ گئی ہوگی اس پہ سفارش کا وعدہ ہے”۔۔۔ دنیا میں مگن گناہوں کے انبار لانے والوں کو شیطان نے کیسی بهول بهلیوں میں گم کر رکها ہے۔

سفارش کروا لینا ہماری خواہش پہ ہر گز نہ ہوگا بلکہ الله تعالى کے اذن سے ہوگا۔ مالک یوم الدین کو ہی علم ہے کہ کون سفارش کا مستحق ہے۔ کس کا روزہ کیسا ہے؟ اور کس کا تعلق قرآن پاک سے کیسا ہے اور کون سنت رسول الله کا کتنا پابند ہے۔ جس سے جیسا رشتہ ہوگا وہ ویسا ہی تعلق آخرت میں نبها ئے گا الله تعالى کی اجازت ملنے کے بعد۔۔۔

ہمارا رشتہ الله تعالى اور اس کے رسولﷺ سے کیسا ہے؟ یہ اسی زندگی میں متعین کرنا ہوگا۔ اگر دل کا رشتہ قرآن پاک سے ہوگا تو ہم اپنی زندگی اسی کے مطابق گزاریں گے اور پهر الله تعالى ہر سفارش کرنے والے کو اجازت دیں گے کہ وہ ہمارے حق میں سفارش کرے وہ روزہ ہو، قرآن ہو یا خاتم النبیین۔

ساری امت مسلمہ قرآن حکیم سےتعلق بنانے کے لئے رمضان المبارک  میں خاص طور پہ تیاریاں کرتی ہے۔

دن کو دورہ تفسیر اور رات کو تراویح میں قرآن حکیم سننے کی سعادت حاصل  ہوتی ہے۔۔۔ گویا دن رات الله تعالی کے کلام کے ساتھ بسر ہو رہے ہوتے ہیں۔۔۔ الله رب العزت  کے کلام کے ساتھ دل کا رشتہ کیسا ہے؟ یہ دیکهنے کے لئے ہمیں روزانہ دورہ قرآن اور قیام الیل کے لئے جانے سے پہلے ان آیات پہ غور کرنا چاہئے۔

٭سچے اہل ایمان تو وہ لوگ ہیں جن کے دل الله کا ذکر سن کر لرز جاتے ہیں، اورجب الله کی آیات أن کے سامنے پڑهی جاتی ہیں تو ان کا ایمان بڑھ جاتا ہے (الانفال8؛2)

٭الله کا ذکر سن کران لوگوں کے رونگٹے کهڑے ہو جاتے ہیں، جو اپنے رب سے ڈرنے والے ہیں ان کے دل نرم ہوکر الله کے ذکر کی طرف راغب ہو جاتے ہیں (الزمر39:23))

٭أن کا حال یہ تها جب ان کو رحمان کی آیات سنائی جاتیں تو روتے ہوئے سجدے میں گر جاتے تهے (مریم19:58)

٭جب وہ اس کلام کو سنتے ہیں جو رسول پہ اترا ہے تو تم دیکهتے ہو کہ حق شناسی کے اثر سے ان کی آنکھیں آنسوؤں سے تر ہو جاتی ہیں۔ (المآئدہ5:83)

جب قرآن مجید کے ساتھ ایسا دل کا رشتہ جڑ جائے گا تو اس کی حلاوت کا ذائقہ  بهی محسوس ہوگا۔۔۔ اور اس حلاوت کو جس نے محسوس  نہ کیا اس نے کچھ حاصل نہ کیا۔۔۔

اے الله! قرآن حکیم کو ہمارے دل کی بہار، سینے کا نور، آنکھوں کی ٹهنڈک، قبر کاساتهی اورآخرت میں ہمارا شفیع  بنا دے۔ آمین

Posted by: Bushra Tasneem | فروری 22, 2017

حدیث نمبر 34 

بسم الله الرحمن الرحيم

الحمدلله رب العالمين والصلاة والسلام على سيدنا محمد رحمۃ للعالمین

مشکوة المصباح کے حصہ کتاب الصوم(139) میں بخاری شریف کے حوالے سے سیدنا أبو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنه سے مروی ہے کہ” رسول اللہﷺ کے سامنے ہر رمضان المبارک میں ایک مرتبہ قرآن پیش کیا جاتا تها مگر جس سال آپ نے انتقال فرمایا اس رمضان المبارک آپ کو دو بار قرآن سنایا گیا۔”

قرآن پاک کا رمضان المبارک میں تلاوت کا خاص اہتمام اور تراویح میں قرآن کا دور کرنا ساری امت کا مشترکہ محبوب عمل ہے۔۔۔ اور ساری امت مسلمہ انفرادی و اجتماعی طور پہ اس عمل پہ متفق ہے۔

قرآن پاک دستور زندگی ہے۔ وہ زندگی کسی فرد کی ہو یا پوری امت کی۔۔۔ اس لحاظ سے قرآن پاک ایسا آئینہ ہے جسکو سامنے رکھ کر اپنے کردار کا رخ متعین کرنا ہی نجات کا ذریعہ ہے۔ اور اسی آئینے میں اپنی روحانی شخصیت کے خدو خال کا جائزہ لیا جا سکتا ہے۔۔۔

قرآن پاک پوری انسانیت کے لئے بهی ایک آئینہ کی حیثیت رکهتا ہے۔۔۔ جس میں ہر انسان کو اپنی شکل نظر آتی ہے۔ (فيه ذكركم)  اس قدآدم آئینے میں ہر انسان اپنی پوری شخصیت کی ظاہری و باطنی اچها ئی برائی کا جائزہ لے سکتا ہے، اور اس آئینے کے ساتھ ہر انسان کا سلوک ہی انسان کی عقل وفہم کا پیمانہ مقرر کر دے گا۔۔۔

آئینہ کے سامنے انسان اس لئے کهڑا ہوتا ہے کہ وہ اپنی خوبصورتی کو دیکھ کر خوش ہو۔۔۔ اس خوبصورتی کو قائم رکهنے کے لئے کوئی اقدام کرے۔۔۔ روزانہ جائزہ  لے کہ کہیں اس خوبصورتی میں کمی واقع  تو نہیں ہو رہی۔ اگر کچھ بهی فرق محسوس ہو رہا ہے تو فکرمند ہو کر اس  کےازالے کی کوشش کرے۔۔۔ اگر آئینہ برائی بتا کر سچ بول رہا ہے تو اس کے بیان پہ انسان کا رد عمل کیا ہونا چاہئے؟؟؟

آئینہ تو بے لاگ رائے دے رہا ہے۔ آئینے پہ غصہ کرنا، آئینہ بنانےوالے یا اس کو انسان کے سامنے لانے والے سے جهگڑنا، آئینے کی اصلیت پہ کچھ بهی اثرانداز نہیں ہو سکتا۔ اگر آئینہ کسی  کی برائی  دکها تا ہے دیکهنے والا اس میں آئینے کو قصوروار ٹهہراتا ہے اور آئینے سے منہ موڑتا ہے، اس کو نقصان پہنچانے کی کوشش کرتا ہے تو وہ اپنی کم عقلی کا اعلان کرتا ہے۔

جب قرآن پاک نازل ہوا تو اس آئینے میں ہر کسی نے اپنی  شکل دیکهی۔۔۔

کسی نے اپنےخوبصورت دل کو اورحسن بخشا اور صدیق اکبر کہلایا۔۔۔ کسی نے اپنے دل کی بد صورتی کو دیکھ کر آئینے کو جهٹلایا۔ انا  کا مسئلہ بنا کر دل میں بغض اور کینہ رکها اور ابو الحکم سے ابو جہل کہلایا۔۔۔ یہودیوں نے اپنی بد صورتی کوعیاں ہوتے دیکھ کر حسد  کیا۔ دل میں جلن اور بغض لے کر آئینے  کو میلا اور گدلا کرنے کی کوشش میں لگے رہے۔۔۔ اور منہ کی کها تے رہے۔ دوسری طرف مومنوں نے اس آئینے کی ہر بات کو مانا، اس میں اپنی شکل کو ہر زاویے سے پرکھا اور کامیابی کی راہ پہ گامزن رہے (قد افلح من زكها) اورجو اس آئینے کی بات سے انحراف کرتے رہے وہ ناکام  رہے۔ (وقدخاب من دسها)

آئیے اس رمضان المبارک میں اس آئینے کو اپنے سامنے رکھ کر اپنے حسن وجمال  کا جائزہ لیں۔۔۔ آئینہ بہترین مخلص، ناصح ہوتا ہے۔۔۔ قرآن نصیحت ہے سارے جہان کے لئے۔۔۔ (ولقد يسرنا القرآن لذكر فهل من مدكر)

نصیحت قبول کرنے کے لئےقلب سلیم کی ضرورت ہوتی ہے۔ صحتمند دل ہی نصیحت قبول کرنے کے قابل ہوتا ہے۔ اور نصیحت کی ضرورت ہمیشہ رہتی ہے۔ اس لئے کہ اپنی زندگی میں ہی جنت کی خوشخبریاں حاصل کر لینے والے بهی خود کو نصیحت سے بے نیاز نہیں سمجھتے تهے۔ دل کی جو بیماری انسان کو نصیحت قبول کرنے سے دور رکهتی ہے وہ کینہ ہے۔۔۔ جب تک کافروں، مشرکوں، منافقوں، کے دلوں میں کینہ رہا وہ ہدایت سے دور رہے جس لمحے جس کے دل سے کینہ دور ہوا اوراس پاک لمحے میں نصیحت کانوں  کے ذریعے دل میں اتری کامیابی کی راہیں کشادہ ہو گئیں۔۔۔

آج یہ کامیابی کی راہیں کیوں محدود ہیں؟ اس لئے کہ قرآن پاک دلوں کی بہار نہیں بن رہا۔ دل میں بہاراس لئے نہیں آرہی کہ قرآن پاک کو سکهانے والے اکثر دلوں میں کینہ و بغض کی گهٹن، تنگی اور حبس ہے۔ نصیحت واصلاح سے خود کو بے نیاز سمجهنا ہے۔ بڑے برتن میں جیسا پانی ہوگا پیاسے لوگوں تک ویسا ہی پانی پہنچے گا۔ قرآن پاک ہاتھ  میں اٹها کرمسند درس وتدرس پہ تشریف رکهنے والے اس قرآنی آئینے میں اپنے دلوں کےمیل کی موٹی تہوں پہ غور کریں اور کینہ، حسد، تکبر، باہمی بغض وعناد، رقابت، دنیا طلبی جیسے موزی امراض سے چهٹکارا پائیں۔۔۔ اپنے دل کی تنگی دورکرکے ایک دوسرے کا ہاتھ پکڑیں ایک دوسرے کی کمزوریوں کو آئینہ بن کردور کریں۔۔۔ جب علماء کے دل روشن ہوں گے اور جب مومن علماء ایک دوسرے کا آئینہ بن جائیں گے تو دنیا روشن ہو جائے گی۔ اسی روشنی میں عوام کو آسانی سے راہنمائی ملے گی۔ باہم دلوں، گهروں، اداروں اور ملکوں میں امن و سکون ہوگا۔ ان شاء الله۔

اللهم اغفرلنا ذنوبنا و اسرافنا فی امرنا وثبت اقدامنا وانصرنا علی القوم الکافرین۔ اللهم کفرعنا سیاتنا و توفنا مع الأبرار۔ آمین۔۔۔

Older Posts »

زمرے